24 ستمبر 2018
تازہ ترین
 یورپ کی تقدیر اب جرمنی کے ہاتھ  

 ۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئندہ کے امریکی سربراہ کے ساتھ اختلاف رائے کے باوجود یورپ کی یہ کوشش رہے گی کہ وہ اپنے راستے کا تعین کرے۔مرکل کا یہ بیان اختتام ہفتہ ٹرمپ کے انٹرویو کے جواب میں سامنے آیا جس پرکچھ یورپی رہنما خوف زدہ ہوئے جس میں منتخب امریکی سربراہ نے نیٹو اتحاد پر اپنی پرانی نکتہ چینی دہرائی اور یورپ کو درپیش تارکین وطن کے بحران پر جرمنی کے اقدام کو ایک تاریخی غلطی قرار دیا۔مرکل نے کہا کہ یورپی یونین سے برطانیہ کے نکل جانے کے باوجود 27 یورپی ممالک اتحاد کا حصہ رہیں گے۔ بقول ان کے میرے خیال میں یورپ کے لوگ اپنی تقدیر کا خود ہی فیصلہ کریں گے اور میں ان سے یہ تاکیدکروں گی کہ وہ سارے متحد رہیں۔ برلن میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے ارکان دہشتگردی کے انسداد یورپی یونین کی بیرونی اور داخلی سرحدوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے اور حقیقی طور پر واحد ڈیجیٹل منڈی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے ایک ساتھ مل کر کام کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپ کے بارے میں ٹرمپ کے خیالات سے ہم سب واقف ہیں۔ بقول ان  کے منتخب امریکی صدر نے اپنے خیالات کی نشاندہی کر دی ہے، اس لئے ایک بار جب وہ عہدہ سنبھالتے ہیں چونکہ اس لمحے وہ عہدے پر فائز نہیں ہیں، ظاہر ہے ہم امریکی انتظامیہ سے تعاون کریں گے اور ہم دیکھیں گے آیا ہم کس نوعیت کا معاہدہ طے کرتے ہیں۔  


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟