یمن میں امدادی آپریشن جاری رہیگا ، عرب اتحاد

یمن میں آئینی حکومت کی رٹ بحال کرنے کے لئے قائم کردہ عرب فوجی اتحاد نے کہا ہے کہ جنگ سے متاثرہ علاقوں میں بھرپور امدادی آپریشن بھی جاری ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عرب اتحادی فوج کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ عرب اتحادی ممالک کی قیادت یمن جنگ میں پیش آنے والے حادثات کے نتائج کو پوری ایمان داری کے ساتھ قبول کر رہی ہے۔ اگر اتحادی فوج کی طرف سے یمن جنگ کے دوران کوئی غلطی سرزد ہوتی ہے تو اس کا ازالہ کیا جاتا ہے اور تحقیقاتی رپورٹس کے نتائج قبول کئے جاتے ہیں۔ کرنل المالکی نے مزید کہا کہ یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں پوری قوت کے ساتھ ریلیف سرگرمیاں جاری ہیں۔ یمن میں امدادی سامان کی ترسیل کے لئے جن راستوں کو مختص کیا گیا وہ کام کر رہے ہیں۔ امدادی سامان لے جانے والے بحری جہازوں کو بھی کسی تاخیر کے بغیر یمن کی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہو نے کی اجازت دی جاتی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ جیبوتی میں انفوم آرگنائزیشن بحری جہازوں کو یمن کی طرف جانے کی اجازت دینے کی مجاز ہے اور اس کی طرف سے متعدد امدادی کشتیوں کو یمن کی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہونے کے اجازت نامے جاری کئے گئے ہیں۔ عرب اتحاد نے کہا ہے کہ یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی فوج کا اگلا ہدف صعدہ میں الجبادی کو باغیوں سے آزاد کرانا ہے۔ تازہ آپریشن میں یمن کی سرکاری فوج نے صعدہ کے قریب جبل سواس کا گھیرائو کرنے اور متعدد اہم مقامات پر اپنا کنٹرول مستحکم کرلیا ۔ کرنل ترکی المالکی نے پریس کانفرنس کے دوران یمن میں حوثیوں کے ان اڈوں کی نقشے کے ذریعے نشاندہی کی جنہیں سعودی عرب پر بیلسٹک میزائل حملوں کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حوثیوں نے اب تک سعودی عرب پر 158 بیلسٹک میزائل حملے کئے جنہیں ناکام بنا دیا گیا۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟