20 نومبر 2018
تازہ ترین
یمن با رے  اقوام متحدہ کی رپورٹ مسترد

یمن میں سعودی اتحادی افواج نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ غیر مصدقہ اور گمراہ کن معلومات کو بنیاد بنا کر مرتب کی گئی ہے۔اقوام متحدہ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں یمن میں ہونے والے حملوں کو جنگی جرائم قرار دیا تھا۔سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ کئی چیزیں غیر مصدقہ ہیں۔یمن میں جاری جنگ کے حوالے سے اقوام متحدہ نے اس نوعیت کی اپنی پہلی رپورٹ میں کہا تھا کہ یمن میں تمام فریقین نے جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ مبینہ طور پر یمن کی سکیورٹی فورسز، سعودی اتحاد اور حوثی باغیوں نے شہریوں کی حفاظت کے لیے بہت کم اقدامات کیے۔رپورٹ میں سکولوں، ہسپتالوں اور مارکٹوں پر بمباری اور شیلنگ کا ذکر کیا ہے جن میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ جنگ میں شامل فریقین نے عارضی حراستی مراکز بنا رکھے ہیں جس میں مخالفین کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور فریقین پر بچوں کو بھرتی کرنے کا الزام بھی ہے۔یمن میں جنگ میں شامل سعودی عرب اور اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ اتحاد نے دسمبر 2017 میں کام شروع کرنے والے اقوام متحدہ کے گروپ کے ساتھ مکمل تعاون کیا اور انھیں حقائق پر مبنی معلومات فراہم کیں ہیں۔اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ نے چند غیر سرکاری تنظیموں کی گمراہ کن رپورٹس کو بنیاد بنا کر ان پر جھوٹے الزامات عائد کیے ہیں۔ان گمراہ کن الزامات میں عام شہریوں کو نشانہ بنانا، امدادی اشیا کی رسائی پر پابندی عائد کرنا اور عارضی حراستی مراکز بنانا شامل ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یمن میں انسانیت کے لیے کی گئی کاوشوں اور یمنی عوام کو بحران سے نکالنے کے لیے اتحادی افواج کے اہم کردار کو نظرانداز کرنا حیران کن ہے۔یمن میں مارچ 2015 سے اْس وقت سے لڑائی جاری ہے جب حوثی باغیوں نے ملک کا کنٹرول سنھبال تھا اور صدر منصور ہادی کو ملک چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا۔حوثی باغیوں کے سر اٹھانے پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور سات دیگر عرب ممالک نے اتحاد بنایا اور حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیوں کا آعاز کیا۔سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ایران حوثی باغیوں کو اسلحہ اور رقم دے رہا ہے جبکہ ایران نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟