13 نومبر 2018
ہوائی فائرنگ سے ماحول پر اثرات

پاکستان میں تقریبات یا خوشی کے مواقعوں پر ہوائی فائرنگ بہت عام ہے مگر ہوا میں جب کسی گن سے فائرنگ کی جائے تو کیا ہوتا ہے؟ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ کچھ زیادہ اچھا نہیں بلکہ برا ہوتا ہے۔ درحقیقت جب آپ گن اوپر کرکے فائر کرتے ہیں تو نکلنے والی گولی دو میل اوپر تک سفر کر سکتی ہے، جس کے بعد وہ نیچے زمین کی جانب گرنا شروع ہوتی ہے اور یہی وہ موقع ہوتا ہے جب حقیقی مسئلے کا آغاز ہوتا ہے۔ گن سے نکلنے والی گولی کو ہوا اس مقام سے سینکڑوں فٹ دور لے جاسکتی ہے جہاں اسے فائر کیا جاتا ہے، تاہم اس کا انحصار ہوا کی شدت پر ہے۔ یہ امر آپ کے لئے تو باعث اطمینان ہوسکتا ہے مگر قریب موجود کسی بھی فرد کے لئے ڈرائونا خواب ثابت ہو سکتا ہے۔ اپنی حد بلندی پر پہنچ کر گولی کی رفتار صفر میل گھنٹہ ہوجاتی ہے۔ مگر جب یہ واپس زمین کی جانب آنے لگتی ہے تو کشش ثقل اس کی رفتار میں اضافہ کرتی ہے۔ ہوا کی مزاحمت گولی کے گرنے کی رفتار کچھ حد تک تو کم کر سکتی ہے مگر یہ پھر بھی زمین پر گرنے تک چار سو میل فی گھنٹہ کی رفتار پکڑ سکتی ہے۔ زمین پر گرنے کے بعد اگر یہ کسی انسان سے ٹکراتی ہے تو یہ یقیناً اسے زخمی کرنے یہاں تک کہ ہلاکت کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے والی گولی بھی جلد میں سوراخ کر سکتی ہے تو چار سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹکرانے کی صورت میں نتیجہ آپ خود سوچ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال ہوائی فائرنگ سے ان آوارہ گولیوں سے ٹکرانے کے باعث درجنوں افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔ اکثر یہ گولیاں لوگوں کے سروں سے ٹکراتی ہیں۔ اسی لئے اکثر ممالک اور شہروں میں ہوائی فائرنگ کے خلاف قوانین کا اطلاق کیا گیا ۔ بنیادی طور پر کسی گن سے ہوا میں فائر کرنا کچھ زیادہ اچھا خیال نہیں جس سے گریز کرنا ہی بہتر ہے۔ 


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟