14 نومبر 2018
تازہ ترین
ہمارا مقصد بہتراورتیز  نظام انصاف ہے  ، چیف جسٹس

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقدمات میں 26 سال بعد ریلیف ملنا کوئی ریلیف نہیں لہذا ہمارا مقصد ہے کہ انصاف کا نظام بہتر اور تیز ہوجائے۔ سپریم کورٹ میں نظام انصاف میں بہتری کے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد ہے کہ انصاف کا نظام بہتر اور تیز ہوجائے، مقدمات میں 26 سال بعد ریلیف ملنا کوئی ریلیف نہیں، ایک نجی ادارے کا وراثتی سرٹیفکیٹ 16 سال سے عدالت میں زیرالتوا ہے، بتادیں کہ نظام انصاف میں بہتری کے لیےعدالت کیا حکم جاری کرے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ میرے پاس ٹائم کم ہونا شروع ہوگیا ہے، چیف جسٹس کو باقی کام بھی کرنا ہوتے ہیں، نظام انصاف میں بہتری کے لیے سب اپنی تجاویز دیں اور آئندہ سماعت پر وفاقی اور صوبائی وزراء قانون عدالت تشریف لائیں۔

علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے ملک بھر میں منرل واٹر کمپنیوں کی جانب سے پانی استعمال کا ازخود نوٹس لے لیا، اٹارنی جنرل، صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز سے پانی استعمال کی تفصیلات آج شام تک طلب کر لیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کٹاس راج مندر تالاب خشک ہونے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران منرل واٹر کمپنیوں کے پانی استعمال کا ازخود نوٹس لیا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ منرل واٹر کمپنیاں کتنا پانی استعمال کر رہی ہیں ؟ ان کا کہنا تھا کہ پانی نکال کر بیچا جا رہا، اس کی کوئی قیمت ادا کر رہے ہیں یا نہیں ؟ کراچی سمیت ملک بھر کی منرل واٹر کمپنیوں والے کل لاہور آ جائیں، سماعت لاہور رجسٹری میں ہوگی


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟