17 نومبر 2018
تازہ ترین
ہفتہ رفتہ:بازار حصص بلند ترین سطح پر، انڈیکس 263 پوائنٹس ، سرمایہ 65 ارب بڑھ گیا

یوم عاشور کے باعث 3 دن تک محدود رہنے والے گزشتہ کاروباری ہفتے کے دوران بھی پاکستان سٹاک مارکیٹ نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور مارکیٹ میں مجموعی طور پر تیزی کا رجحان غالب رہا ، کے ایس ای 100 انڈیکس 41629 پوائنٹس کی بلند ترین سطح کو چھونے کے بعد 41464 پوائنٹس کی تاریخی سطح پر بند ہوا جبکہ مارکیٹ سرمائے میں 65 ارب سے زائد روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم 84 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا ۔ گزشتہ ہفتے مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز تیزی کے ساتھ ہوا اور مسلسل تیزی کے باعث انڈیکس میں 200 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ دیکھنے میں آیا ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے ادارے ایمرجنگ مارکیٹس کی جانب سے پاکستان کو جنوبی ایشیا کا بہترین انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ ملک قرار دیئے جانے اور پاکستان سٹاک مارکیٹ کے 40 فیصد شیئرز کی فروخت کے معاملے پر امریکی سٹاک مارکیٹ کے بھی پاکستانی مارکیٹ میں حصہ دار بننے کی خبروں پر سرمایہ کار زیادہ متحرک دکھائی دیئے جبکہ چین کی شنگھائی سٹاک مارکیٹ بھی پاکستان سٹاک مارکیٹ کے شیئرز خریدنے کیلئے میدان میں موجود ہونے کی اطلاعات پر مارکیٹ سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنی رہی تاہم نئے کاروباری ہفتے میں مارکیٹ اتار چڑھاؤ کا شکار ہو سکتی ہے ۔ پاکستان سٹاک مارکیٹ کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے انڈیکس 41300 اور 41400 پوائنٹس کی 2 بالائی حد عبور کرنے میں کامیاب رہا ، کے ایس ای 100 انڈیکس میں 263.83 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے 100 انڈیکس 41200.48 پوائنٹس سے بڑھ کر 41464.31 پوائنٹس پر جا پہنچا ، اسی طرح کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 28275.07 پوائنٹس سے بڑھ کر 28527.41 پوائنٹس پر جا پہنچا جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 22.28 پوائنٹس کی کمی سے 22640.63 پوائنٹس پر بند ہوا ۔ کاروباری تیزی کے سبب مارکیٹ سرمائے میں 65 ارب 42 کروڑ 50 لاکھ 78 ہزار 174 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم 83 کھرب 88 ارب 45 کروڑ 19 لاکھ 44 ہزار 304 روپے سے بڑھ کر 84 کھرب 53 ارب 87 کروڑ 70 لاکھ 22 ہزار 478 روپے ہوگیا ، گزشتہ ہفتے زیادہ سے زیادہ 44 کروڑ 7 لاکھ 37 ہزار حصص کے سودے ہوئے اور ٹریڈنگ ویلیو 14ارب روپے ریکارڈ کی گئی جبکہ کم سے کم کاروباری لین دین 36 کروڑ 30 لاکھ 50 ہزار حصص رہا اور ٹریڈنگ ویلیو 11 ارب روپے تک محدود رہی ، مجموعی طور پر 1360 کمپنیوں کا کاروبار ہوا جس میں سے 669 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ، 648 میں کمی اور 43 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا ۔ کاروبار کے لحاظ سے بینک آف پنجاب ، جاپان پاور ، ٹی آر جی پاک لمیٹڈ ، سوئی ناردرن گیس کمپنی ، عائشہ سٹیل مل ، عسکری بینک ، این آئی بی بینک لمیٹڈ ، بینک الفلاح اور شبیر ٹائلز سرفہرست رہے ۔ 
 


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟