17 نومبر 2018
تازہ ترین
 ہسپتال کے کمرے سے شراب، منشیات برآمد ، شرجیل میمن جیل منتقل

 چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کے کلفٹن میں واقع ضیا الدین ہسپتال میں زیر علاج پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن کے کمرے پر چھاپے کے دوران وہاں سے شراب کی بوتلیں، سگریٹس اور منشیات برآمد ہونے کے بعد سابق صوبائی وزیر کو سینٹرل جیل منتقل کرکے نجی ہسپتال میں ان کا کمرہ سیل کر دیا گیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری آمد سے قبل آج کراچی کے تین ہسپتالوں میں اچانک دورہ کرکے سیاسی قیدیوں کے علاج کے بہانے قائم کئے گئے وی وی آئی پی وارڈز کا معائنہ کیا۔ چیف جسٹس سب سے پہلے کلفٹن کے نجی ہسپتال کی پہلی منزل پر سب جیل قرار دیئے گئے سابق صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن کے پرتعیش کمرے میں گئے، تاہم ذرائع کے مطابق وہاں کوئی ڈاکٹر یا نرس موجود نہیں تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق چیف جسٹس نے پیپلز پارٹی رہنما کے علاج اور بیماری کے حوالے سے سوالات کئے۔ ذرائع کے مطابق چھاپے کے دوران شرجیل میمن کے کمرے سے شراب کی بوتلیں، سگریٹس اور منشیات برآمد ہوئیں، جنہیں ان کے سٹاف نے قبضے میں لے کر گاڑی میں منتقل کر دیا۔ اس کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار خفیہ طور پر کراچی کے جناح ہسپتال کے شعبہ کارڈیو ویسکولر پہنچے، جہاں انہوں نے منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار سابق صدر آصف علی زرداری کے فرنٹ مین انور مجید کے کمرے اور ان کے علاج اور بیماریوں کا جائزہ لیا اور کچھ ریکارڈ بھی قبضے میں لیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار جناح ہسپتال کے خصوصی وارڈ بھی گئے ، جہاں انہوں نے انور مجید کے بیٹے غنی مجید کے لئے مخصوص وارڈ کا معائنہ کیا۔ تاہم غنی مجید کے کمرے میں موجود نہ ہونے پر استفسار کیا تو چیف جسٹس کو بتایا گیا کہ ملزم کو ایم آر آئی کرانے کے لئے لے جایا گیا ہے۔  اس کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان نے وہاں موجود مختلف لوگوں سے بات چیت بھی کی۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟