20 نومبر 2018
ہتک عزت کا دعویٰ، عمران کو جواب جمع کروانے کا حکم

لاہور کی مقامی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف ہتک عزت کے دعویٰ سے متعلق متفرق درخواست پر عمران خان کو جواب جمع کروانے کا حکم دے دیا۔صوبائی دارالحکومت میں سیشن کورٹ کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ  ن کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور پاکستان کرکٹ بورڈ  کے چیئرمین نجم سیٹھی کی جانب سے عمران خان کے خلاف ہتک عزت کے دعویٰ سے متعلق سماعت ہوئی۔شہباز شریف کی درخواست پر جج انجم امتیاز ملک نے سماعت کی، تاہم اس دوران عمران خان کے وکیل بابر اعوان مصروفیات کی وجہ سے پیش نہ ہوئے اور ان کی طرف سے جونیئر وکیل نے عدالت کو موقف سے آگاہ کیا۔جونیئر وکیل نے بتایا کہ عمران خان نے اسلام آباد میں شہباز شریف سے متعلق بات کی تھی، تاہم لاہور کی عدالت کو ہرجانہ کیس کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں۔اس پر وکیل شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان نے پاناما پیپرز کے معاملے پرعوام کو گمراہ کیا اور شہباز شریف پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے عمران خان کو10 ارب روپے کی پیشکش کی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لیے شہباز شریف کی کردار کشی کی، لہٰذا عدالت عمران خان کو ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے۔تاہم عدالت نے عدالتی دائرہ اختیار کے خلاف عمران خان کی درخواست پر فریقین کے وکلائ  کو بحث کے لیے طلب کر لیا۔دوسری جانب سیشن کورٹ میں چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کی عمران خان کے خلاف ہتک عزت کے دعوے سے متعلق سماعت ہوئی۔ایڈیشنل سیشن جج انجم ممتاز نے نجم سیٹھی کی درخواست پر سماعت کی، تاہم عدالت میں عمران خان کی جانب سے آج بھی جواب جمع نہیں کروایا گیا۔بعد ازاں عدالت نے وکلا  کی ہڑتال کے باعث کیس کی سماعت ملتوی کردی اور آئندہ سماعت پر عمران خان کو جواب جمع کروانے کا حکم دے دیا۔خیال رہے کہ نجم سیٹھی نے عمران خان کے خلاف 10 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے۔نجم سیٹھی نے درخواست میں موقف اپنا ہے کہ عمران خان نے مختلف سیاسی جلسوں میں کرپشن کے جھوٹے الزامات لگائے، جس کے باعث ان کی شہرت متاثر ہوئی، لہٰذا عدالت عمران خان کو ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟