25 اپریل 2018
تازہ ترین
ہاکی ٹیم  نے امیدوں پر پانی پھیر دیا

 قومی سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین اور اپنے دور کے عظیم کھلاڑی اولمپئن اصلاح الدین صدیقی نے کہا ہے کہ کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان ہاکی ٹیم توقعات پر پورا نہیں اتری، اسے ایونٹ کی پہلی 4 ٹیموں میں شامل ہونا چاہئے تھا تاہم  یہ امر خوش کن ہے کہ پاکستان کو گیمز میں کسی میچ میں شکست کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ سابق قومی کپتان اولمپئن اصلاح الدین صدیقی نے کہا کہ آسٹریلیا کے شہر گولڈ کوسٹ میں ہونے والے21 ویں کامن ویلتھ گیمز  میں پاکستان ہاکی ٹیم  کی  ٹیم کارکردگی کو اطمینان بخش نہیں قرار دیا جاسکتا۔  انہوں نے کہا کہ مجھے توقع تھی کہ پاکستان ہاکی ایونٹ میں کم از کم پہلی 4 ٹیموں میں شامل ہونے میں کامیاب رہے گا م لیکن بدقسمتی آڑے آگئی، تاہم یہ اچھی بات رہی کہ قومی ٹیم  اپنے گروپ میچز میں شکست سے دور رہی اور اس نے حریف ٹیموں کے خلاف تمام میچز برابر کھیلے، خاص طور پر روایتی حریف بھارت کے خلاف پاکستان نے شاندار کھیل پیش کرکے  اپنے  بہتر مستقبل کی نشاندہی کی لیکن پاکستان کو ٹورنامنٹ کے افتتاحی میچ میں مد مقابل ویلز کو ضرور شکست سے دوچار کرنا چاہئے تھا۔  انہوں نے کہا کہ پول بی میں انگلینڈ کے بعد ملائیشیا کی مضبوط ٹیم سے بھی میچ برابر کھیلنے سے پاکستان ٹیم کے کھلاڑیوں کے اعتماد میں ضرور اضافہ ہوگا اور اگلے مقابلوں میں فتح کے لئے زیادہ جوش اور ولولے کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آئندہ اچھے نتائج پانے کے لئے سخت محنت کی ضرورت ہوگی، ایشین گیمز اور پھر چیمپئنز ٹرافی کو اپنا ہدف بناکر مناسب لائحہ عمل تیار کیا جائے، ٹرافی میں پاکستان کو ہالینڈ، جرمنی اور کوریا جیسی مضبوط ٹیموں سے مقابلہ درپیش ہوگا، اس ضمن میں طویل المدتی تربیتی کیمپس کا انعقاد لازمی ہے، اس کے ساتھ کھلاڑیوں کی جسمانی فٹنس اور کنڈیشن کو بھی زیادہ بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے، اس معاملے پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔


عوامی سروے

سوال: آپ کے خیال میں پاکستان کا اگلا وزیراعظم کون ہونا چاہیے؟