17 نومبر 2018
تازہ ترین
ہائی کورٹ نے عمران کو اسلام آباد بند کرنے سے روک دیا، 31 اکتوبر کو عدالت طلب

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت کی جانب سے یہ حکم جمعرات کو اسلام آباد میں عمران خان کے دھرنے کو روکنے سے متعلق چار درخواستوں کی سماعت کے دوران دیا گیا ہے۔

٭ 'تیسری قوت آئی تو اس کے ذمہ دار نواز شریف ہوں گے'

عمران خان نے دو نومبر کو حکومت کے خلاف احتجاجی مہم کے سلسلے میں اسلام آباد میں دھرنا دینے اور شہر بند کر دینے کا اعلان کیا ہے۔

اس معاملے پر دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے سیکریٹری داخلہ سے کہا گیا کہ ضلعی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے کہ عمران خان کو جلسے کے لیے کوئی ایک مخصوص مقام فراہم کیا جائے اور انھیں وہاں تک محدود رکھا جائے۔

اس کے علاوہ سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ شہر میں کسی بھی مقام پر کنٹینرز نہ لگائے جائیں۔

عدالت نے مزید کہا ہے کہ احتجاج کرنا سب کا حق ہے لیکن اس کے لیے شہر کو بند نہیں کیا جا سکتا اور دو نومبر کو شہر میں کوئی سکول اور کالج بند نہیں کیا جائے گا۔

شوکت عزیز صدیقی نے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ عمران خان کے جلسے کے لیے پریڈ ایوینیو میں انتظامات کریں اور انھیں وہیں تک محدود رکھنے کو یقینی بنایا جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی نے عمران خان کو 31 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کے لیے بھی کہا ہے۔

پی ٹی آئی اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے لارجر بینچ یا سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی اور پہلے مرحلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ کے اس فیصلے کے خلاف حکمِ امتناعی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

ڈاکٹر عارف علوی, رہنما پاکستان تحریکِ انصاف

دھرنا روکنے کی درخواستوں کی سماعت کے دوران جج شوکت عزیز صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کی جانب سے شہر کو بند کرنے کی تقاریر ان کی موجودگی میں ہی سنی جائیں گی اور اس پر ان سے وضاحت طلب کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان حکومتی مشینری کو جام کرنا چاہتے ہیں۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سماعت میں مزید کہا کہ یہ سب جان لیں کہ امپائر یا تھرڈ امپائر کوئی نہیں صرف عدالت ہے۔

خیال رہے کہ عمران خان نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کے احتجاج کے نتیجے میں کوئی تیسری قوت آتی ہے تو اس کے ذمہ دار بھی نواز شریف ہی ہوں گے۔

عدالت کے اس حکم پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تحریکِ انصاف کے رہنما ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے لارجر بینچ یا سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ کے اس فیصلے کے خلاف حکمِ امتناعی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

عارف علوی نے یہ بھی بتایا کہ موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے پارٹی کے اہم رہنماؤں کا اجلاس بھی جمعرات کو طلب کیا گیا ہے جس میں عدالتی فیصلے کے بعد کی حکمتِ عملی پر غور ہو گا۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟