گنے کا رس معدے کے انفیکشن میں مفید

گنے کا رس معدے کے انفیکشن میں مفید

گنے کے رس کے بے شمار طبی فوائد ہیں۔ گنے کے رس میں کیلشیم، کوبالٹ، کاپر، کرومیم، میگنیشیم، فاسفورس، پوٹاشیم اور زنک پایا جاتاہے۔ اس کے علاوہ گنے کے جوس میں وٹامن اے، سی، بی ون، بی ٹو، بی تھری، بی فائیو اوربی سکس کے ساتھ پروٹین، اینٹی آکسیڈنٹس اور حل پذیر فائبر کی اچھی خاصی مقدار موجود ہوتی ہے۔ گنے کے رس  میں جلدی امراض، نزلہ زکام، معدے کا انفیکشن، پانی کی کمی، کینسر اور گردے کی بیماریوں سے بچائو شامل ہے۔ اس کے علاوہ گنے کا رس انسانی جسم کو توانائی پہنچا کر قوت مدافعت بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔ گنے کا رس انسانی جسم کو غدود اور چھاتی کے کینسر سے لڑنے کے قابل بنا تا ہے۔ گنے کا رس گلے میں خراش،سوزش، نزلہ اور آدھے سرکے درد کے علاج کا بہترین گھریلو ٹوٹکا ہے۔  گنا پٹھوں کی مضبوطی کو برقرار رکھنے اور جسم کے لئے ضروری قدرتی گلوکوز کی فراہمی کا بہترین ذریعہ ہے۔ بخار میں مبتلا شخص کیلئے ڈاکٹرز خود ہدایات جاری کرتے ہیں کہ اسے گنے کا رس پلایا جائے۔ یرقان کے مرض میں مبتلا مریضوں کے لئے گنے کا رس کسی اکسیر سے کم نہیں، کیونکہ یہ جسم میں گلوکوز کی سطح کو مطلوبہ حد تک پہنچا کر مریض کی جلد بحالی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔  جسم میں الیکٹرولائٹ کی کارگردگی کو برقرار رکھنے کیلئے گنا آپ کیلئے بےحد مفید ہے۔ گرمیوں میں گنے کا رس پینے سے جگر کا عمل بہتر ہوجاتا ہے اور پیٹ کی بیماری سے آپ محفوظ رہتے ہیں یعنی نظام انہضام کی بہتری اور قبض کا بہترین علاج گنے کے رس کا استعمال ہے۔ گنے کے رس کے ذریعے روزمرہ کھائی جانے والی خوراک بآسانی ہضم ہوجاتی ہے۔ گنا سوکروس نامی شوگر کا حامل ہوتا ہے، جو قدرتی طور پر زخموں کو بھرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔  گنے کا رس دل کے امراض سے حفاظت کا بھی ذریعہ ہے کیونکہ یہ جسم میں کولیسٹرول کی سطح کو بڑھنے نہیں دیتا۔ گنے کا رس پیشاب کی نالی میں ہونے والی جلن کا بہترین قدرتی علاج ہے۔ گنے کے رس میں چونکہ کیلشیم اور فاسفورس موجود ہوتا ہے، اس لئے یہ ہڈیوں کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟