20 ستمبر 2018
گندم کے آٹے سے بنی روٹی شوگر کے مریضوں کیلئے مفید

ذیابیطس کی دونوں اقسام میں خون میں شوگر کی سطح کو نارمل رکھنے کیلئے سب سے اہم چیز غذائی احتیاط ہے، جس کے بغیر ذیابیطس پر قابو پانا ممکن نہیں۔ برصغیر میں ذیابیطس کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے اور مریضوں کی جانب سے جو سوال سب سے زیادہ پوچھا جاتا ہے، وہ یہی ہے کہ وہ کون کونسی غذا کھا سکتے ہیں۔ چاول اور روٹی معمول کی غذا کے لازمی اجزا ہیں اس لئے شوگر کے مریض ہمیشہ چاول یا روٹی میں سے کسی ایک کے انتخاب میں تذبذب کا شکار رہتے ہیں۔ ماہرین غذائیات کے مطابق شوگر کے مریضوں کیلئے کسی بھی غذا کے چنائو میں سب سے اہم چیز اس غذا کا گلائسیمک انڈیکس (Glycemic Index) ہوتا ہے۔ یہ وہ پیمانہ ہے جس کی مدد سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ کسی بھی غذا میں شامل کاربوہائیڈریٹس کس حد تک شکر میں تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ غذائی ماہرین کے مطابق کسی غذا کا گلائسیمک انڈیکس اگر 55 سے کم ہو تو وہ خون میں شوگر کی کم مقدار شامل کرتی ہے، جبکہ 70سے زیادہ گلائسیمک انڈیکس والی غذائیں شوگر کی زیادہ مقدار خون میں شامل کرتی ہیں۔ چاول کا گلائسیمک انڈیکس 73ہے جو خطرناک حد تک بلند ہے، جبکہ چکی کے آٹے سے بنی روٹی کا گلائسیمک انڈیکس 52ہے۔ اس طرح چاول کے مقابلے میں گندم کے آٹے سے بنی روٹی کا استعمال شوگر کے مریضوں کیلئے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ بھوسی کے حامل آٹے (Bran Flour) سے بنی چپاتی، ذیابیطس کے مریضوں کے لئے زیادہ مفید ہے، تاہم اگر بیسن کی روٹی کو غذا میں شامل کرلیا جائے تو یہ بھوسی والی روٹی سے بھی زیادہ سود مند ثابت ہوگی۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟