23 ستمبر 2018
تازہ ترین
گستاخانہ خاکوں کا معاملہ، تحریک لبیک اور حکومت میں مذاکرات ناکام

وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے تحریک لبیک یارسول اللہ کے رہنمائوں سے گستاخانہ خاکوں کے خلاف احتجاجی مارچ نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے تحریک لبیک یارسول اللہ اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ختم ہوگیا۔ وفاقی وزیر مذہبی امور پیرنورالحق کی سربراہی میں حکومتی وفد میں صوبائی وزیر قانون ودیگر افسران شامل تھے جب کہ تحریک لبیک کے وفد کی قیادت بانی تحریک لبیک یارسول اللہ پیر محمد افضل قادری نے کی، ان کے ہمراہ علامہ وحید نور ڈاکٹر شفیق امینی ودیگر تھے۔ ملاقات کے دوران وفاقی وزیرمذہبی امور نے وزیراعظم کا پیغام پہنچایا اور گستاخانہ خاکوں کیخلاف احتجاجی مارچ نہ کرنے کی درخواست کی۔ پیرنورالحق نے تحریک لبیک یارسول اللہ  کے رہنمائوں کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت گستاخانہ خاکوں کیخلاف ہرممکن قدم اٹھارہی ہے، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ہالینڈ کے وزیرخارجہ کو فون کرکے اس حوالے سے مسلمانوں کی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔ اس معاملے پر او آئی سی کا اجلاس بھی طلب کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب تحریک لبیک یارسول اللہ  کے رہنمائوں نے پاکستان میں تعینات ہالینڈ کے سفیر کو ملک بدرکرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب ترجمان تحریک لبیک یارسول اللہ پیر اعجاز اشرفی نے کہا ہے کہ حکومت سے مزاکرات ناکام ہوگئے ہیں جس کے بعد حکومت نے مزید وقت مانگ لیا ہے، جب کہ لبیک یارسول اللہ مارچ داتا دربار سے نکلنے کے لیے تیار ہے۔ واضح رہے کہ رواں سال جون میں ہالینڈ کی اسلام مخالف جماعت فریڈم پارٹی آف ڈچ کے متنازع رہنما گیرٹ ولڈرز نے پارلیمنٹ میں گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ کروانے کا قبیح اعلان کیا تھا۔ پاکستان نے 20 اگست کو گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کے انعقاد کے معاملے پر ہالینڈ کے ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج بھی کیا تھا۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟