16 نومبر 2018
گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اقوام متحدہ اور او آئی سی میں اٹھائیں گے، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا  ہے کہ گستاخانہ خاکوں کے مقابلے مسلمانوں کی اجتماعی ناکامی ہیں، جبکہ اقوام متحدہ اور او آئی سی میں اس معاملے کو اٹھایا جائے گا۔سینیٹ اجلاس میں ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف قرارداد مذمت منظور کرلی گئی۔ قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے قرارداد پیش کی، جس میں کہا گیا کہ نبی اکرم ۖ سے محبت مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے، مسلمان اپنے پیغمبر ۖ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کریں گے، گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ ناقابل برداشت عمل ہے، حکومت اس مسئلے کو سفارتی سطح پر اٹھائے اور ہالینڈ کی حکومت سے بھرپور احتجاج کیا جائے۔ قرارداد کی منظوری کے بعد سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ گستاخانہ خاکوں کے مقابلے مسلمانوں کی اجتماعی ناکامی ہیں، اس کیخلاف امت مسلمہ کو متحد کریں گے، اقوام متحدہ اور او آئی سی میں معاملے کو اٹھائیں گے، مغرب میں لوگوں کو اس معاملے کی حساسیت کا اندازہ نہیں۔ معیشت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جو آج پاکستان کی معاشی صورتحال ہے آج ہم پر 28 ہزار ارب قرضہ چڑھ چکا ہے، قرضوں پر سود واپس دینے کے لئے قرضے لے رہے ہیں، ہمارے انسانوں کا حل یہ ہے کہ برصغیر میں سب سے پیچھے رہ گئے ہیں، جس بحران میں آج پاکستان ہے جب تک ہم خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہیں کریں گے، تب تک اللہ ہماری حالت نہیں بدلے گا،  لہٰذا ہمیں اپنا مائنڈ سیٹ بدلنا پڑے گا۔ انہوں  نے کہا کہ عوام کا ٹیکس کا پیسہ عوام پر خرچ ہونا چاہیے، صاحب اقتدار اپنی مثال سے عوام کو دکھائیں جو ٹیکس کا پیسہ ہے وہ شاہانہ طرز زندگی کے لئے نہیں ہے، وہ ہمارے بچوں کے لئے ہے جو ہمارا مستقبل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہائوس کی گاڑیوں کی نیلامی کریں گے، اس سے ہماری بچت تو کم ہے لیکن ٹیکس دینے والوں کو پیغام جائے گا کہ ان کا پیسہ انہی پر خرچ ہو رہاہے، ہم دنیا میں سب سے زیادہ خیرات کرتے ہیں لیکن ٹیکس نہیں دیتے کیونکہ عوام کا مائنڈ سیٹ ہے کہ حکومت ہماری نہیں ہے، جب تک عوام حکومت کو اپنا نہیں سمجھے گی وہ ٹیکس نہیں دیں گے، عوام ٹیکس جب دے گی جب احساس ہو ان کے ٹیکس سے ان کی بہتری ہورہی ہے، ملک میں فضا بنارہے ہیں کہ خرچے کم کرکے آمدنی بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا بڑا مسئلہ منی لانڈرنگ ہے،  اس پر فوکس کر رہے ہیں، ایف بی آر میں اصلاحات کر رہے ہیں، ٹیکس کلیکشن کا معاملہ دونوں ایوانوں میں رکھیں گے، ٹیکس عوام بڑے ایوانوں پر نہیں عوام پر خرچ کریں گے، ہمارے پاس بہت پراپرٹیز پڑی ہیں جنہیں ہم قرض اتارنے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارا بڑا اثاثہ ہیں ان کے لئے گورننس ٹھیک کریں گے، تاکہ وہ پیسہ بھیجیں، یہ سب پلان ایک ہفتے تک ایوان کے سامنے رکھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری لائیں گے، ٹیکس لیں گے اور ادارے مضبوط کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے زیادہ مشکل صورتحال سے دنیا نکل چکی ہے، وہ 5 ،10 سال میں اپنے پیروں پر کھڑے ہوگئے، انہوں نے خرچے کم کئے اور آمدنی بڑھائی لہٰذا سینیٹ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اس صورتحال سے نکلیں گے اور اپنے پیر پر کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بہت لوگ کہہ رہے ہیں ہمیں اقوام متحدہ جانا چاہئے، بیرونی دورے جب کریں گے،  جب گورننس سسٹم بہتر کریں اور اپنا گھر ٹھیک کریں، ہمیں یاد رکھنا چاہئے جو قومیں قرضوں پر گزارا کرنا چاہیں وہ عزت اور آزادی کھو بیٹھتی ہیں، اس لئے پوری کوشش ہے قوم کو اپنے پیر پر کھڑا کریں گے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟