21 جولائی 2019
تازہ ترین
 گرم چائے غذائی نالی کے کینسر کا باعث

 گرم چائے غذائی نالی کے کینسر کا باعث

چائے کے شائقین زیادہ تر افراد گرما گرم چائے پینے کے عادی ہوتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق نیم گرم یا ٹھنڈی چائے میں وہ ذائقہ نہیں ہوتا جو گرم چائے میں ہوتا ہے۔ اگرچہ عالمی ادارہ صحت بھی گرما گرم چائے یا دیگر مشروب پینے سے روک چکا ہے اور ماضی میں ہونے والی تحقیقات میں بھی یہ بات سامنے آچکی تھی کہ تیز گرم چائے صحت کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے۔ تاہم اب امریکی ماہرین کی جانب سے ایران میں کی جانے والی حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ تیز گرم چائے جان لیوا مرض یعنی گلے یا غذائی نالی کے کینسر کا باعث بنتی ہے۔ انٹرنیشل جرنل آف کینسر (آئی جے سی) میں شائع ایک تحقیق کے مطابق 60 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد گرم چائے غذائی نالی یا گلے کی کینسر کا باعث بن سکتی ہے۔ امریکن کینسر سوسائٹی (اے سی ایس) کے ماہرین کی جانب سے ایران کے شمال مشرقی صوبے گلستان کے 5 ہزار سے زائد افراد پر کی جانے والی تحقیق کے نتائج سے پتہ چلا کہ جو افراد 60 سینٹی گریڈ سے زائد گرم چائے پیتے ہیں ان میں گلے یا غذائی کینسر ہونے کے 90 فیصد امکانات ہوتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ماہرین نے 40 سے 75 سال افراد کی جانب سے تیز گرم اور نیم گرم چائی پئے جانے کے نتائج کو 2004 سے 2017 تک مانیٹر کیا اور بعد ازاں رضاکاروں کی صحت کا جائزہ لیا۔ جائزے کے نتائج سے معلوم  ہوا کہ جو افراد  تیز گرم چائے پینے کے عادی ہیں ، ان میں غذائی نالی اور خصوصی طور پر گلے کی کینسر کے امکانات عام افراد یا پھر نیم گرم چائے پینے والے افراد کے مقابلے زیادہ ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ ان کی تحقیق سے قبل بھی یہ بات سامنے آ چکی تھی کہ گرم چائے کینسر کا باعث بنتی ہے، تاہم ان کی تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کتنی گرم چائے کینسر کا باعث بنتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جو افراد یومیہ 700 ملی لیٹر یعنی چائے کے 2 بڑے کپ تیز گرم پیتے ہیں وہ جلدی سے کینسر کا شکار بنتے ہیں۔ ماہرین نے مشورہ دیا کہ چائے کے شوقین افراد کو نیم گرم چائے پینی چاہئے۔ ماہرین کے مطابق اگر چائے کے شوقین افراد تیز گرم چائے کے کپ کو محض 4 منٹ کے بعد پینا شروع کریں گے تو ان میں کینسر کے خدشات کم ہوں گے۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟