22 ستمبر 2018
 گرمی کی شدت سے بڑھتے آنکھوں کی امراض و علاج

 گرمیوں کی شدت بڑھتے ہی کلینکوں اور سپتالوں میں آشوب چشم کے مریضوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں درجۂ حرارت بڑھتے ہی آشوب چشم سے متاثرہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد سپتالوں میں نظر آنے لگی ہے۔ آشوب چشم وہ مرض یا کیفیت ہے جس میں آنکھیں سرخ ہوجاتی ہیں، ان میں چبھن اور تکلیف کا احساس ہوتا ہے اور پانی بہنے لگتا ہے۔  اگر ابتدائی مرحلے میں اس کا علاج کرلیا جائے تو بہتر ہے، بے پروائی کرنے کی صورت میں یہ کیفیت شدید اور تکلیف دہ ہوجاتی ہے، حتیٰ کہ پتلیاں گھمانے سے بھی تکلیف ہوتی ہے۔ متاثرہ فرد روزمرہ معاملات کی انجام دہی سے قاصر ہوجاتا ہے۔ اس مرض یا کیفیت میں افاقے کے لیے علاج کے ساتھ ساتھ احتیاط بھی ضروری ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ آشوب چشم میں علاج سے زیادہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے، آنکھوں میں تیز ہوا لگنے سے بچائیں۔ ہیئرڈرائر، کار کے ہیٹر، ایئرکنڈیشنر یا پنکھے کی ہوا براہ راست آنکھوں سے نہ ٹکرانے دیں۔ ہوا گرم اور خشک ہو تو اس میں نمی کی ملاوٹ کا انتظام کریں۔ باہر نکلتے ہوئے دھوپ کی عینک کا استعمال کریں، تاہم کچھ ایسا انتظام کریں کہ عینک کے اطراف سے ہوا آنکھوں تک نہ پہنچ سکے۔ اس کے لیے آپ عینکوں کی دکان سے حفاظتی شیلڈز حاصل کرسکتے ہیں۔ نظر کا کام کرتے ہوئے وقفے لیتے رہیں۔ مثلاً اگر آپ مطالعہ یا بصری ارتکاز کا کوئی بھی کام کررہے ہیں تو ہر کچھ دیر کے بعد نگاہ کو وہاں سے ہٹالیں اور چند منٹ کے لیے آنکھیں بند کرلیں یا پھر چند سیکنڈ کے لیے بار بار پلکیں چھپکائیں تاکہ آنکھوں میں آنے والی نمی یعنی آنسو آنکھ کے ڈیلوں پر یکساں طور سے پھیل جائے۔ اپنے اطراف کے ماحول سے خبردار رہیں۔ اونچے مقامات پر یا صحرائی علاقوں میں اور ہوائی جہاز کے اندر کی ہوا بے حد خشک ہوسکتی ہے۔ اس ماحول میں رہتے ہوئے آنکھیں وقفے وقفے سے چند منٹ کے لیے بند کرلیں۔ اس عمل سے آنکھوں کی نمی کے بخارات بن کر ہوا میں تحلیل ہوجانے کا عمل سست پڑجائے گا۔ 


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟