17 اگست 2019
تازہ ترین
کیا گھی انسانی صحت کیلئے نقصان دہ؟

کیا گھی انسانی صحت کیلئے نقصان دہ؟

ویسے تو آج کل اکثر کھانے تیل میں پکائے جاتے ہیں مگر گھی وہ چیز ہے جو دہائیوں سے استعمال ہورہی ہے اور لگ بھگ ہر کچن میں موجود ہوتی ہے، جسے اکثر افراد صحت کے لئے اور خصوصی طور پر اپنے جسمانی ساخت کے لئے نقصان دہ بھی سمجھتے ہیں، تاہم اس میں کچھ زیادہ صداقت نہیں بلکہ بہت زیادہ گھی کا استعمال نقصان دہ ہوتا ہے، اعتدال میں رہ کر کھانا بہت سے فوائد کا حامل ہوتا ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ کھانوں کو مزیدار کرنے کے ساتھ گھی جسم کے لئے کس حد تک فائدہ مند ہے؟ گھی میں بٹرک ایسڈ کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے، جو کہ ورم کو کم کرنے کے ساتھ نظام ہاضمہ کو بہتر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ گھی کے استعمال سے معدے کے تیزاب کو متحرک کرنے میں بھی مدد ملتی ہے جو کہ صحت مند نظام ہاضمہ کے لئے ضروری ہے۔ گھی میں ضروری امینو ایسڈز موجود ہوتے ہیں جو کہ توند کی چربی گھلانے میں مدد دیتے ہیں، اس میں موجود اومیگا تھری اور اومیگا سکس فیٹی ایسڈز توند گھٹانے اور چربی گھلانے میں مدد دیتے ہیں۔ اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہونے کے باعث گھی جسم کی وٹامنز اور منرلز کو جذب کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے، جس سے جسمانی دفاعی نظام مضبوط ہوتا ہے اور امراض کے خلاف زیادہ موثر دفاع کرتا ہے۔ نیند کی کمی، ذہنی تنائو یا بہت زیادہ کام کرنے سے  آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے ابھر آتے ہیں، مگر گھی کی مدد سے ان سے فوری نجات پائی جاسکتی ہے۔ سونے سے قبل نرمی سے گھی کی کچھ مقدار کو آنکھوں کے ارگرد لگائیں، جس سے بہت جلد سیاہ حلقوں سے نجات پانے میں مدد ملے گی۔ اگر کھانا پکاتے ہوئے ہاتھ معمولی سا جل جائے تو گھی سے ریلیف حاصل کیا جاسکتا ہے جو کہ سوجن پر بھی قابو پاتا ہے، متاثرہ حصے پر اسے لگانے سے ورم کو کم کیا جاسکتا ہے جبکہ جلن کے احساس سے بھی فوری ریلیف ملتا ہے۔ گھی میں موجود فیٹی ایسڈز اور اینٹی آکسائیڈنٹس اسے خشک اور روکھے بالوں کے لیے بہترین ہیئر کنڈیشنر بناتے ہیں، گھی اور زیتون کے تیل کو ملا کر بالوں پر لگانا انہیں نرم اور جگمگانے میں مدد دیتا ہے، اسی طرح گھی میں لیموں کے عرق کو ملا کر لگانا خشکی سے نجات دلاتا ہے۔ گھی میں موجود فیٹی ایسڈز اور دیگر اجزاروکھی اور بے جان جلد پر کرشماتی اثر دکھا سکتے ہیں اور جلد کو جگمگانے میں مدد دیتی ہے۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟