15 نومبر 2018
تازہ ترین
کیا میں اپنی ٹانگ اپنےپاس رکھ سکتی ہوں؟مریضہ کی خواہش

اوکلوہاما سے تعلق رکھنے والی کرسٹی لویال بہترین انداز میں سیکھ چکی ہیں ۔اپریل 2016 میں کینسر کا شکار ہونے والی 25 سالہ کرسٹی لویال کو جب ڈاکٹروں نے اس بات سے آگاہ کیا کہ کینسر کو جسم میں مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے انہیں ان کی ٹانگ کاٹنی پڑیگی تو ان کا پہلا سوال یہ تھا ٴٴ کیا میں اپنی ٹانگ اپنے پاس رکھ سکتی ہوں؟ٴٴڈاکٹرز نے بھی کرسٹی کی اس خواہش کو پورا کرتے ہوئے متاثرہ ٹانگ ان کے حوالے کردی۔حیرت انگیز طور پر کرسٹی نے اپنی ایک ٹانگ سے محرومی کو اپنے لیے کمزوری نہیں بننے دیا اور اس کٹی ہوئی ٹانگ کو اپنی پہچان بنالیا اور اب وہ جہاں جاتی ہیں اپنے ساتھ اپنی کٹی ہوئی ٹانگ کے ڈھانچے کو بھی لے کر جاتی ہیں۔معذوری کو شکست دینے کی بہترین مثال کرسٹی کا انسٹاگرام اکائونٹ ہے جہاں ان کی بے شمار تصاویر موجود ہیں۔سردی بڑھے تو وہ موزے اب بھی دونوں پیروں میں پہنتی ہیں شاید کچھ لوگ کرسٹی کی ٹانگ کے ڈھانچے کی ان تصاویر سے خوفزدہ ہوتے ہوں لیکن زیادہ تر افراد ان تصاویر کو ان کے حوصلے کی مثال قرار دیتے ہیں۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟