16 نومبر 2018
تازہ ترین
کیا آپ کو صحت مند دل چاہیے؟شادی کر لیں۔۔

شادی نہ صرف ایک خوبصورت رشتہ ہے بلکہ اس کے اپنے کئی فوائد بھی ہیں۔ یہ فوائد صرف مالی یا دنیاوی ہی نہیں بلکہ طبی بھی ہیں۔ ماہرین کے مطابق  درمیانی عمر میں شریک حیات کا ساتھ امراض قلب اور فالج کا خطرہ کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔  برطانیہ کے رائل سٹاک ہاسپٹل کی تحقیق میں 2 دہائیوں کے دوران 42 سے 77 سال کی عمر کے 20 لاکھ سے زائد افراد کا جائزہ لینے کے بعد نتیجہ نکالا گیا کہ شادی شدہ ہونا امراض قلب اور فالج جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ کم کرتا ہے۔ اس تحقیق کے دوران یورپ، شمالی امریکا، مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے باسیوں کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ نکالا گیا۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ طلاق شدہ، شریک حیات کی وفات یا کبھی شادی نہ کرنے والے افراد میں خون کی شریانوں سے منسلک امراض جیسے امراض قلب یا فالج وغیرہ کا خطرہ شادی شدہ افراد کے مقابلے میں 42 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح شریک حیات سے محروم افراد میں امراض قلب سے موت کا خطرہ اپنے شادی شدہ دوستوں کے مقابلے میں 42 فیصد جبکہ فالج سے 55 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ازدواجی حیثیت بھی شریانوں سے جڑے امراض کے حوالے سے خطرات کی پیشگوئی کے حوالے سے اہم ہے۔  شریک حیات کا ساتھ مشکل وقت میں ایک دوسرے کو تحفظ فراہم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس سے قبل سویڈن میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ شادی شدہ جوڑوں کے مقابلے میں تنہا رہنے والوں میں دماغی تنزلی کے امراض کاخطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔  تنہا افراد میں دماغی تنزلی کی بنیادی وجہ تنہائی کا احساس اور سماجی تعاون نہ ملنا ہے، جس سے منفی ذہنی اثرات جیسے ڈپریشن اور ذہنی بے چینی وغیرہ کا امکان بڑھتا ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟