13 نومبر 2018
کھانے کے بعد میٹھا کھانے کی وجہ

آپ نے اکثر اس بات کو نوٹ کیا ہوگا کہ کھانا کھانے کے بعد کچھ میٹھا کھانے کو دل کرتا ہے۔ لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اگر آپ کو شروع سے ہی میٹھا کھانا پسند ہے تو اس میں آپ کی کوئی غلطی نہیں ہے کیونکہ عموماً انسانوں میں ابتدا ہی سے میٹھی غذائوں کو ترجیح دینے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ اگر انسان تلخ اور ترش غذائوں کا زیادہ استعمال کرتا ہے تو وہ معدے کے لئے خاصی بھاری ثابت ہوتی ہیں اور اسی وجہ سے اندورنی طور پر اس سے بچائو کے لئے میٹھے کی طلب اجاگر ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ توانائی والی غذائیں مثلاً چینی وغیرہ غذائی قلت کے دوران بقا فراہم کرتی ہیں۔ اس حوالے سے غذائی ماہرین کے مطابق عموماً بچوں کو جو غذائیں انعام کے طور پر دی جاتی ہیں وہ بڑے ہونے کے بعد بھی انہیں اچھا محسوس کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔ اکثر ماں باپ یا اساتذہ اپنے بچوں کو انعام کے طور پر بسکٹ، ٹافی، چاکلیٹ یا کوئی میٹھی چیز دیتے ہیں جو ان کے اندر جڑ پکڑ لیتی ہیں اور خوشی کے اظہار کا ایک ذریعہ بن جاتی ہیں۔ اگر آپ پاکستانی کھانوں پر نظر ڈالیں تو نتیجہ اخذ کریں گے کہ ان میں کاربوہائیڈریٹس کی زائد مقدار پائی جاتی ہے یا پھر یہ کافی نشاستہ دار ہوتی ہیں، ویسے تو یہ نقصان دہ نہیں ہوتیں مگر میٹھے کھانے کی چاہ بڑھانے میں انہی کا کردار ہوتا ہے۔ انسانی جسم قدرتی طور پر غذائی توازن کو برقرار رکھنے کے لئے نمکین کھانے کے بعد میٹھے کی چاہ میں گرفتار ہوجاتا ہے اور یہی وجہ سے کہ فاسٹ فوڈ یا فرینچ فرائیز کے ساتھ سافٹ ڈرنک کی خواہش بھی جنم لیتی ہے۔ تاہم اگر آپ میٹھا کھانے کے عادی ہیں تو یہ آپ کا نفسیاتی مسئلہ بھی ہوسکتا ہے کیونکہ میٹھے کے عادی شخص کو بھی جب تک میٹھا نہ ملے تو اسے ایسا لگتا ہے جیسے کھانا ہضم ہی نہیں ہورہا۔ پانی کی کمی بھی میٹھا کھانے کی چاہ میں اضافے کا باعث بنتی ہے تو اگر آپ کا دل بھی بار بار میٹھا کھانے کو چاہتا ہے تو پانی زیادہ سے زیادہ پیئں۔ اگر آپ کھانا کھانے کے آدھے گھنٹے میں پانی نہ پیئں تو کھانے کے ہضم ہونے کا امکان کم ہوجاتا ہے اور یہ میٹھی غذائوں کی خواہش کے اظہار کو بڑھا دیتا ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟