14 نومبر 2018
تازہ ترین
 کھالوں کی قیمتوں میں کمی سے ایکسپورٹرز پریشان

 بین الاقوامی مارکیٹ میں کھالوں کی قیمتیں گرنے کے اثرات پاکستان میں بھی مرتب ہوئے اور مقامی مارکیٹ میں کھالوں کی قیمتیں گھٹ گئی ہیں۔ مقامی ٹینری انڈسٹری کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتیں گرنے سے پاکستانی برآمد کنندگان کو نقصانات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔ ٹینری سیکٹر نے کہا کہ رواں سال عیدالاضحی کے موقع پر ملک میں قربانی کے کھالوں کی تجارت کی مالیت ساڑھے 5 ارب روپے رہی ۔ کھالوں کی عالمی سطح پر قیمتیں گرنے سے پاکستانی ایکسپورٹرز اس بار بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کے سابق صدر گلزارفیروز نے بتایا کہ گائے کی کھال گزشتہ سال 2 ہزار روپے تھی، جو رواں برس 1500 روپے میں فروخت ہوئی، بکرے کی کھال کی قیمت میں10 فیصد کمی دیکھی گئی اور گزشتہ سال 220 سے 250 روپے میں فروخت ہونے والی کھال رواں سال 200 میں فروخت کی گئ،ی البتہ دنبے اور اونٹ کی کھالوں کی قیمتیں مستحکم رہیں او ردنبے کی فی کھال 100 روپے جبکہ اونٹ کی فی کھال 800 سے 1000 روپے میں فروخت ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال گائے اور بیل کی قربانی کے حجم میں اضافہ دیکھنے میں آیا ، گزشتہ سال ملک میں 27 لاکھ جبکہ رواں سال 30 لاکھ گائے اور بیل کی کھالیں جمع کی گئیں، رواں سال بکرے کی30 لاکھ کھالیں جمع ہوئیں جبکہ ملک میں اونٹ کی قربانی کرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ملک میں گزشتہ سال 75 ہزار اونٹوں کی کھا لیں جمع کی گئیں ، جبکہ رواں سال25 فیصد کے اضافے سے 1 لاکھ اونٹ کی کھالیں جمع کی گئیں۔  پاکستان سے قربانی کی80 فیصد کھالیں یورپین ممالک کو ایکسپورٹ کی جائیں گی، پاکستانی کھالوں کے بڑے خریدار ممالک میں اٹلی، فرانس، جرمنی، پرتگال اور یورپ دیگر ممالک شامل ہیں، مقامی ٹینریز پیر سے کھالوں کی پروسیسنگ کا عمل شروع کر دیں گی،  جس کے بعد مرحلے وار قربانی کھالوں کی برآمدات شروع ہوجائیں گی۔ قربانی کے جانوروں کی کھالیں فلاحی اداروں کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہوتی ہیں،  لیکن ان کھالوں کی قیمتوں میں ہوش ربا کمی نے فلاحی اداروں کے آپریشنز کو بری طرح متاثر کیا ۔  ماہرین کے مطابق  عالمی سطح پر چمڑے کی مصنوعات کی طلب میں کمی اور چین میں بنائے گئے،  مصنوعی چمڑے کی مقبولیت کے باعث قربانی کے کھالوں کی قیمتیں آدھی سے بھی کم رہ گئی ہیں۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟