17 نومبر 2018
تازہ ترین
کھاد کی قیمت 800روپے تک بڑھ گئی

عام مارکیٹ میں گزشتہ دو ماہ کے دوران کھادوں کی قیمت میں 200 روپے سے 800روپے تک اضافہ کر دیا گیا ، جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں کھادوں کی درآمدات، برآمدات، معیار اور فروخت کرنے کیلئے مجوزہ ریگولیٹری اتھارٹی قائم نہ ہو سکی۔ ذرائع کے مطابق متعلقہ اداروں کی جانب سے چیک اینڈ بیلنس کے فقدان کے باعث عام مارکیٹ میں گزشتہ دو ماہ کے دوران کھادوں کی قیمت میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا  اور گزشتہ دو ماہ کے دوران کھادوں کی قیمت میں 200 روپے سے 800 روپے تک اضافہ ہوا ہے۔ یوریا کی بوری جو کہ دو ماہ قبل عام مارکیٹ میں تقریبا 1400روپے میں دستیاب تھی اس کی قیمت میں دو ماہ کے اندر 200روپے تک اضافے کے ساتھ یوریا کی فی بوری قیمت 1600روپے ہو گئی ۔ اسی طرح ڈی اے پی کھاد کی قیمت بھی گزشتہ دو ماہ کے دوران 2700 روپے سے 3500 روپے تک پہنچ گئی ۔ اس طرح عام مارکیٹ میں گزشتہ دو ماہ کے دوران ڈی اے پی کھاد کی قیمت میں بھی 800 روپے تک اضافہ واقع ہوا ہے۔ کھادوں کی قیمت میں اس طرح اضافے کے باعث کاشت کاروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے کھاد کی مد میں سبسڈی بھی دی جاتی ہے، تاہم خیبر پختونخوا کو گزشتہ سال بھی کھاد کی سبسڈی پر چند تحفظات تھے۔ ذرائع کے مطابق اس وقت بھی فرٹیلائزر کمپنیوں کے سبسڈی کی مد میں حکومت کی جانب اربوں روپے سے واجب الادا ہیں۔ دوسری جانب وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں کھاد کی در آمدات، برآمدات، معیار اور فروخت کو ریگولیٹ کر نے کیلئے ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنے کی تجویز پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟