13 نومبر 2018
کپاس کی قیمتیں مستحکم

 مقامی کاٹن مارکیٹ میں نئی فصل کی کپاس کی قیمتیں مستحکم رہیں۔  صوبہ سندھ کے کپاس پیدا کرنے والے زیریں علاقوں میں تعطیلات کے دوران جمع ہونے والی پھٹی کی رسد میں اضافہ ہونے کی وجہ سے سندھ میں 7 جننگ فیکٹریوں نے پھٹی کی خریداری شروع کردی ہے اور تقریبا تمام فیکٹریوں نے روئی کے سودے فی من 7800 تا 8000 روپے پر کر لیے لیکن بعد ازاں پھٹی کی رسد کم ہونے کی صورت میں جننگ فیکٹریوں میں پھٹی کی آمد کم ہوگئی ہے۔ جننگ فیکٹریوں نے اپنی استطاعت سے زیادہ روئی فروخت کردی۔ ملوں کی جانب سے بھی روئی کی خریداری میں اضافہ ہوگیا، نتیجتا کاروبارپر جمود ساطاری ہوگیا۔ فی الحال روئی کی فی من قیمت 8050 تا 8100 روپے اور فی 40 کلوگرام پھٹی کی قیمت 3800 تا 4150 روپے ہے تاہم فی الحال جنرز کے پاس پرانے اسٹاک کی روئی کی تقریبا 50 تا 60 ہزار گانٹھیں موجود ہے جس کی فی من قیمت5500 تا 7600 روپے چل رہی ہے۔ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے فی من سپاٹ قیمت100 روپے کی کمی کرکے7500 روپے پر بند کیا۔ کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ سندھ کے زیریں علاقوں سے کپاس کی فصل کی صورتحال تشویشناک ہے۔ صوبہ سندھ کے ضلع سانگھڑ میں ملک میں سب سے زیادہ تقریبا 13 تا 14 لاکھ گانٹھوں کی پھٹی پیدا ہوتی ہے۔ اس سے نچلے کے علاقوں میں 6 تا 7 لاکھ گانٹھوں کی پھٹی ہوتی ہے لیکن اس سال پانی کی شدید کمی اور شدید گرمی کے سبب کپاس کی بوائی تسلی بخش نہ ہوسکی جس کی وجہ سے ضلع سانگھڑ سے نیچے کے علاقوں میں تقریبا 20 لاکھ گانٹھوں کی کپاس کی پیداوار ہوتی ہے لیکن اس سال تقریبا 30 تا 35 فیصد کاشت کم ہونے کی صورت میں ان علاقوں میں روئی کی 4 تا 5 لاکھ گانٹھیں کم پیدا ہونے کا خدشہ بتایا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں کچھ علاقوں میں کچی پھٹی کے سبب پیلی پھٹی کی بھی شکایت موصول ہورہی ہے تاہم فی الحال نواب شاہ، بے نظیر آباد سے اوپر کے علاقوں میں پیداوار اچھی ہونے کی رپورٹ موصول ہورہی ہیں۔ نسیم عثمان نے بتایا کہ بین الاقوامی کپاس منڈیوں میں بھی امریکا کی جانب سے چین یورپ اور بھارت کے ساتھ تجارتی سرد جنگ شروع ہونے کی وجہ سے روئی کے بھائو میں اتار چڑھائو ہورہا ہے۔ خصوصی طور پر گزشتہ دنوں نیویارک کاٹن کے وعدے کا بھائؤ بڑھ کر فی پاونڈ 82-94 امریکن سینٹ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا جو بعد ازاں امریکن سینٹ کی غیر معمولی کمی کے بعد 83 سینٹ کی کم سطح پر آگیا۔  


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟