22 اگست 2019
تازہ ترین
کٹل فش کے انڈے بھی اپنا دفاع کرتے ہیں

کٹل فش کے انڈے بھی اپنا دفاع کرتے ہیں

سائنسدانوں نے ایک قسم کی کٹل فش کے بارے میں حیرت انگیز انکشاف کیا ہے کہ اس کے انڈوں کے اندر زندہ بچے دشمن کا نوالہ بننے کیلئے ذہانت بھرا حربہ استعمال کرتے ہیں۔ فرانس اور تائیوان کی جامعات کے ماہرین نے کہا ہے کہ ایک قسم کی فیروکٹل فش(Sepia pharaonis) کا بچہ انڈے کی شفاف جھلی میں رہتا ہے اور دشمن اسے آسانی سے دیکھ کر شکار کر سکتا ہے۔ لیکن اس کیفیت میں بھی بچہ دیکھنے اور کیمیائی عمل پر اپنا رد عمل دکھاتا ہے۔ اسی لئے دشمن کو دیکھتے ہی یہ ساکت ہوجاتا ہے اور سانس روک لیتا ہے۔ اس سے قبل ماہرین نے کہا تھا کہ کٹل فش کے بچے انڈے کی شفاف جھلی میں افزائش کے وقت بھی اطراف کا بہت احساس رکھتے ہیں۔ کٹل فش کا نر مادہ سے ملاپ کرنے کے بعد مرجاتا ہے اور یوں مادہ کو ہی انڈوں اور بچوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے لیکن خطرے کے وقت بھی بچے تنہا اور بے آسرا رہ جاتے ہیں۔ اب جیسے ہی کوئی حملہ آور شکاری مخلوق انڈے کھانے کے لئے آتی ہے بچہ سانس روک کر ساکت ہوجاتا ہے اور کافی دیر بے حس و حرکت رہتا ہے۔ اس طرح وہ دشمن کے جانے کا انتظار کرتا ہے۔ اس کی سب سے خطرناک شکاری بھی ایک عجیب و غریب مچھلی ہے جسے ہم پفر فش کے نام سے جانتے ہیں۔ اسی طرح جو کلائون فش جیسی مچھلیاں کٹل فش کے بچے نہیں کھاتیں اور اسی بنا پر جب کلائون فش ان کے قریب آتی ہیں یہ بے خوف ہوکر اپنا کام کرتی رہتی ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ صرف اپنے اصل دشمن کے سامنے ہی بچے خود کو بچاتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ انسانوں کے بچے رحم مادر میں بہت ساری باتیں سیکھتے ہیں لیکن یہ پہلی مرتبہ کسی سمندری مخلوق کے انڈوں کے اندر بچوں میں اپنے تحفظ کا حیرت انگیز احساس ہوتا ہے جسے وہ بہت کامیابی سے استعمال کرتے ہیں۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟