15 نومبر 2018
کوئٹہ پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملے میں شہید اہلکاروں کی تعداد 61 ہوگئی

کوئٹہ پولیس ٹریننگ سینٹر پر دہشتگردوں کے حملے میں جاں بحق اہلکاروں کی تعداد 61 ہوگئی ہے جب کہ 100 سے زائد اہلکار زخمی ہیں، زخمیوں میں ایف سی اور پاک فوج کے بھی اہلکار شامل ہیں، تمام زخمیوں کو سول اسپتال اور بی ایم سی میں طبی امداد دی جارہی ہے۔ شہر کے تمام سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے اور طبی عملے کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں۔سیکرٹری صحت بلوچستان نورالحق بلوچ کا کہنا ہے کہ سول اسپتال میں 85 جب کہ بی ایم سی اسپتال میں 31زخمیوں کو لایا گیا، زخمیوں سے متعلق صورت حال کنٹرول میں ہے، تمام زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔واقعے پر آرمی چیف جنرل راحیل شریف خصوصی طور پر کوئٹہ پہنچے جنہوں نے پولیس ٹریننگ سینٹر کا دورہ کیا اور پھر شہید اہلکاروں کی اجتماعی نماز جنازہ میں شرکت کی، اس موقع پر ان کے ہمراہ کمانڈر سدرن کمانڈ، آئی جی ایف سی، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ایم آئی، وزیر اعلیٰ بلوچستان سردار ثنا اللہ زہری، وزیر داخلہ سرفراز بگٹی اور دیگر اعلیٰ سیاسی و عسکری حکام بھی موجود تھے۔سول اسپتال میں خودکش حملے کے بعد کوئٹہ میں گزشتہ 3 ماہ کے دوران دہشتگردی کی یہ دوسری بڑی کارروائی ہے، جس پر شہر میں سوگ کا سماں ہے، اہم کاروباری مراکز اور مارکیٹیں بند ہیں۔بلوچستان حکومت نے صوبے بھر میں 3 جب کہ پنجاب حکومت نے ایک روزہ سوگ کا اعلان کردیا ہے۔ جس کے تحت صوبے بھر کی تمام سرکاری، نیم سرکاری اور اہم نجی عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہیں گے۔گزشتہ رات 11 بج کر 10 منٹ پر کوئٹہ میں سریاب روڈ پر واقع پولیس ٹریننگ سینٹر میں 3 مسلح افراد داخل ہوئے، پہلے دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے واچ ٹاور پر موجود اہلکار کو شہید کیا اور پھر ہاسٹل میں موجود اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا۔ اطلاع ملتے ہی پاک فوج کی اسپیشل ٹیم، ایف سی اور اے ٹی ایف اہلکاروں نے علاقے کا محاصرہ کیا۔ پاک فوج اور ایف سی کمانڈوز کی کارروائی میں ایک بمبار مارا گیا جبکہ دو نے خود کو دھماکوں سے اڑا لیا۔ آپریشن کے دوران ہیلی کاپٹرز سے فضائی نگرانی بھی کی گئی۔ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے کامیاب آپریشن کر کے 250 سے زائد اہلکاروں کو بازیاب کرا لیا جب کہ علاقہ 4گھنٹے بعد کلیئر قرار دے دیا گیا۔آپریشن مکمل ہونے کے بعد آئی جی ایف سی میجر جنرل شیرافگن نے میڈیا کو بتایا کہ حملہ آوروں کو افغانستان سے ہدایات مل رہی تھیں اور ان کا تعلق کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی العالمی سے تھا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ تمام حملہ آوروں نے اپنے چہرے ڈھانپ رکھے تھے اور اُن کے ہاتھوں میں کلاشنکوف تھی  پہنا ہوا تھا۔ وہ آپس می  فارسی زبان میں گفتگو کررہے تھے۔ انھوں نے ہمیں دیکھتے ہی اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔اس موقع پر وزیرداخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ حملے کے وقت ہاسٹل میں 700 پولیس اہلکار موجود تھے جو تمام کے تمام غیر مسلح تھے جب کہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو محدود رکھا۔وزیراعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری نے ایکسپریس نیوز سے خصوصی گفتگو کے دوران کہا کہ کوئٹہ میں دہشت گردوں کے حملے کی انٹیلی جنس اطلاع موجود تھی اور 3،4 دن پہلے ہائی الرٹ بھی جاری کیا گیا تھا جب کہ دہشت گردوں کو شہر میں موقع نہیں ملا تو انھوں نے مضافات میں کارروائی کی۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟