20 اکتوبر 2018
تازہ ترین
کرپٹ عناصر کی نشاندہی کے نئے قانون وسل بلور پر آرڈیننس لانے کا فیصلہ

وفاقی کابینہ نے کرپٹ عناصر کی نشاندہی کے نئے قانون وسل بلور پر آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں معاشی صورت حال کی بہتری کے اقدامات اور آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی حکمت عملی پر کابینہ کو اعتماد میں لیا گیا۔ کابینہ کے اجلاس میں ای سی ایل میں نام شامل کرنے اور نکالنے کی لسٹ پر تفصیلی غور کیا گیا اور وزارت داخلہ نے ای سی ایل میں نام شامل کرنے اور نکالنے کی پالیسی پر بریفنگ دی ،جس پر وفاقی کابینہ نے ای سی ایل میں نام ڈالنے کے لئے شفاف نظام بنانے کی جامع پالیسی بنانے کی ہدایت دی۔ وزیراعظم  کو نیا پاکستان ہائوسنگ منصوبے کی تفصیلات پر بریفنگ دی گئی اور کابینہ نے وزارت ہائوسنگ سمیت تمام وزارتوں اور اداروں کو منصوبے سے متعلق امور جلد نمٹانے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر نے بھی بریفنگ دی، کابینہ نے کرپٹ عناصر کی نشاندہی کے نئے قانون وسل بلور پر آرڈیننس لانےکا فیصلہ کیا ، آرڈیننس کو موجودہ نیب اور ایف آئی اے کے قوانین سے ہم آہنگ کیا جائے گا، کرپٹ عناصر کی نشاندہی کرنے والے کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا، کرپشن کی نشاندہی اور غیر قانونی اکا۸ئونٹس سے حاصل رقوم کا 20 فیصد ملےگا۔ کابینہ نے عطیہ کی جانے والی گاڑیوں کے لئے انکم ٹیکس اور سیلز کے آئی آر او میں چھوٹ کی سمری کی منظوری دی۔ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ حکومت پر تنقید کرنے والوں کی جرات پر حیران ہوں جبکہ پاکستان کے موجودہ حالات کے ذمہ داروں پر مقدمہ چلنا چاہئے، ان لوگوں نے جو کچھ پاکستان کے ساتھ کیا، میرے خیال سے تو انہیں 6 ماہ تک گھر سے ہی نہیں نکلنا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے پارلیمانی کمیشن بننا چاہئے کہ گزشتہ 10 سال میں ملک کی معاشی حالت کا ذمہ دار کون ہے۔ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ اجلاس کے دوران بعض افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے یا نکالنے سے متعلق غور ہوا۔ فواد چودھری کے مطابق 3 ہزار کے لگ بھگ لوگوں کے نام ای سی ایل پر ہیں، اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کو کہا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ کہیں ایسے لوگ تو نہیں ہیں جنہیں انتقامی کارروائیوں کے سبب ای سی ایل پر ڈالا گیا ہو۔ وزیر اطلاعات فواد چودھری نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے ایئروائس مارشل ارشد ملک کو چیئرمین پی آئی اے اور عون عباس کو چیئرمین پاکستان بیت المال کی تقرری کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چیئرمین پی آئی اے کو کہا گیا ہے کہ وہ ادارے کی مالی مشکلات کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں یوریا کھاد درآمد کے لئے پیپرا رولز 35 میں نرمی کی سمری پر بھی غور کیا گیا جبکہ عطیہ کی جانے والی گاڑیوں کے لئے انکم ٹیکس اور سیلز کے آئی آر او میں چھوٹ کی سمری بھی پیش کی گئی۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے شروع کی گئی ہائوسنگ سکیم کے حوالے سے فواد چودھری نے بتایا کہ سرکار کی زمین کو لیٹرل ہوگی، بینک قرضہ دے گا، جس پر لوگ گھر بنائیں گے۔ فواد چودھری نے بتایا کہ سمگل شدہ موبائل فون کے حوالے سے بھی طریقہ کار طے کرلیا گیا اور آئندہ برس تک سمگل شدہ موبائل فون ملک میں کام نہیں کریں گے۔ اس سے قبل کابینہ کے اجلاس سے خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان نے وزارت خزانہ سے گزشتہ دس برسوں میں لئے گئے قرضوں کی تفصیلات طلب کیں۔ انہوں نے کہا کہ لے گئے قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی کے لئے مزید قرضوں کی ضرورت پڑ رہی ہے، دس سال میں پاکستان کا قرضہ 6 ہزار سے 30 ارب روپے ہوگیا ، وزارت خزانہ سے قرضوں سے متعلق تفصیلات پوچھی ہیں، وزارت خزانہ بتائے دس برسوں میں لیا گیا قرضہ کن منصوبوں پر خرچ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اورنج ٹرین میں تو خسارہ ہے اس کے لئے مزید قرضے لینے ہوں گے۔ نیا پاکستان ہائوسنگ سکیم سے متعلق انہوں نے کہا کہ ہا¶سنگ پراجیکٹ سے تعمیراتی صنعت میں ترقی ہوگی۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟