26 ستمبر 2018
تازہ ترین
کروڑوں گیلن پانی بچانے والا روبوٹ تیار

 اس پیاسی دنیا میں پانی تمام لوگوں کی اولین ضرورت ہے لیکن اس کی فراہمی ایک چیلنج بھی ہے کیونکہ بوسیدہ پائپ لائنوں سے کم از کم کھربوں گیلن پانی ضائع ہوجاتا ہے۔ اب اس زیاں کو روکنے کیلئے ایک انتہائی سادہ اور موثر روبوٹ بنالیا گیا ۔ یہ روبوٹ میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے چینی طالب علم یو وو نے تیار کیا ، جو آب رسانی کے پائپوں میں تیرتا رہتا ہے اور اپنے مخصوص ہاتھوں سے رستے ہوئے پائپوں میں پیدا ہونے والی سکشن فورس کو محسوس کرکے اس کی کیفیت اور مقام کی فوری خبر دیتا ہے۔ روبوٹ کا پہلا ماڈل اس سال لائٹ ہائوس کے نام سے پیش کیا گیا تھا ، جس کے بعد عالمی جریدے فوربز نے چینی نوجوان یووو کو 2018 کے 30 سال سے کم عمر کے 30 ایسے ماہرین کی فہرست میں شامل کیا ، جو دنیا کو بدلنے کے خواہاں ہیں۔ اس کے بعد یووو نے روبوٹ سازی کی ایک باقاعدہ کمپنی بھی بنائی جسے واچ ٹاور روبوٹکس کا نام دیا گیا۔ دنیا بھر میں پینے کے صاف پانی کی روزانہ 20 فیصد مقدار ضائع ہوجاتی ہے۔ اس سے قبل لیکیج بتانے والے کئی روبوٹ اور نظام بنائے گئے ، لیکن ان کی اکثریت پائپ میں پریشر کی کمی اور وہاں سے خارج ہونے والی آوازوں کو نوٹ کرتی ہے ، لیکن ہر شہر میں صوتی سینسر والے روبوٹ کارآمد نہیں ہوتے کیونکہ وہاں بہت شور ہوتا ہے، جبکہ  یہ روبوٹ شور والے شہروں اور دیہاتوں میں یکساں طور پر کام کرتا ہے۔ صرف امریکا میں ہی ہر سال ڈھائی لاکھ مقامات سے پانی رستا ہے جس میں دو ٹریلین گیلن پانی کسی استعمال کے بغیر ضائع ہوجاتا ہے۔ روبوٹ پائپ کے اندر سفر کرتے ہوئے اطراف کا  تھری ڈی نقشہ بناتا ہے، جس سے واٹر لیکیج والے مقام کی شناخت اور اس کی مرمت بہت آسان ہوجاتی ہے۔ اب تک یہ روبوٹ امریکا، برطانیہ اور سعودی عرب میں آزمایا جا چکا ہے اور اس کے استعمال کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟