12 نومبر 2018
کراچی پولیس چیف کا پولیس نظام میں تبدیلی کااعلان

ایڈیشنل آئی جی کراچی ڈاکٹر امیر شیخ نے کہا ہے کہ 36ہزار کی پولیس فورس میں 100 سے زائد لوگ بدنامی کا باعث بن رہے ہیں  ،جرائم پیشہ افراد کے ساتھ ملی ہوئی بعض کالی بھیڑوں کو سنبھلنے کا بہت موقع لیکن اب پانی سر سے گزر چکا ہے۔ کراچی پولیس چیف کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں پولیس نظام میں تبدیلی کا ااعلان کیا ، اس موقع پر تمام ڈی آئی جیز ، ایس ایس پیز اور دیگر افسران موجود تھے۔ پولیس افسران سے خطاب میں امیرشیخ نے کہا کہ چھاپا مار کارروائیوں کے لیے ہر تھانے میں 8 سے 10 پولیس ملازمین پر مشتمل چھاپہ مارٹیم ریڈ پارٹی ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ تفتیشی افسران کو ایک ماہ میں3 سے 4کیسز دیے جائیں گے، تمام زیر حراست افراد کا ذمہ دار تفتیشی انچارج ہوگا ، تمام زیر حراست افراد کا ذمہ دار تفتیشی انچارج ہوگا۔ کراچی پولیس چیف نے کہا کہ شعبہ تفتیش کو مضبوط اور جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کےلیے اقدامات کر رہے ہیں، انہوں نے تمام تھانوں کے ایس آئی اوز کو بااختیار کرنے کےلیے اقدامات کا بھی اعلان کیا ۔ انہوں نے احکامات دیے کہ ہر تھانے کے شعبہ تفتیش کےلیے کمپیوٹرز ،پرنٹرز اور فوٹو اسٹیٹ میشن فراہم کی جائے، تمام تھانوں کے ایس آئی اوز کو ایک نئی سمیت 2گاڑیاں دی جائیں، تفتیشی افسر کو 2موٹر سائیکل اور دیگر سہولتیں فوری طور پر دی جائیں۔ ڈاکٹر امیر شیخ نے اے ایس آئی، ہیڈ کانسٹیبل اورکانسٹیبل پر مشتمل تفتیشی یونٹس بنانے کی ہدایات کی اور کہا کہ کیس فائل کےساتھ کاسٹ آف انویسٹی گیشن کا کچھ حصہ ایڈوانس دینے پر کام جاری ہے، تھانوں کے حوالات اور مال خانے ایس آئی اوز کے ماتحت کر دیے گئے۔ انہوں نے تین ماہ میں ہر ضلع کی سطح پربین الاقوامی معیار کے مطابق انٹیروگیشن روم قائم کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ تفتیشی عملے کو مناسب جگہ اور بہترین فرنیچرفراہم کیا جائے گا ، شعبہ تفتیش کا ڈیوٹی افسراور منشی بھی 24 گھنٹے موجود ہوگا، پولیس میں آپریشن اورانویسٹی گیشن ایک یونٹ ہیں، ایک دوسرے کو کامیاب کریں۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟