19 نومبر 2018
ڈی پی او تبادلہ کیس،2 انکوائریز کا حکم، رپورٹس ہفتے میں طلب

ڈی پی او پاکپتن کے تبادلے سے متعلق از خود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ نے 2 انکوائریز کا حکم دے دیا، ایک انکوائری تبادلے میں سیاسی اثرو رسوخ کے معاملے پر جبکہ دوسری انکوائری مبشریٰ مانیکا سے پیش آنیوالے واقعہ پر کی جائے گی۔ عدالت نے آئی جی پنجاب سے دونوں انکوائری رپورٹس ایک ہفتے میں طلب کرلی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت وزیراعلیٰ پنجاب کو نوٹس کریں گے۔ سپریم کورٹ میں ڈی پی او پاکپتن تبادلہ ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ خاور مانیکا، احسن جمیل گجر، آئی جی پنجاب کلیم امام، سابق ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل، وزیراعلیٰ کے پی ایس او اور سی ایس او عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا آئی جی صاحب! آپکے علم میں تھا کہ ڈی پی او کو وزیراعلیٰ نے بلایا ہے ؟ مجھے اس وقت پتہ چلا جب ڈی پی او وزیراعلیٰ آفس روانہ ہوچکے تھے، میں نے کہا کہ آئندہ وزیراعلیٰ دفتر روانگی سے قبل مجھ سے اجازت لینا ہوگی۔ چیف جسٹس نے آئی جی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ نے ڈی پی او کو وزیراعلیٰ آفس جانے سے منع کیوں نہیں کیا ؟ آپ وزیراعلیٰ کے پی ایس او کو کہتے کہ میرے علم میں لائے بغیر ڈی پی او کو نہیں بلا سکتے، ڈی پی او پاکپتن کے تبادلے کا حکم کہاں ہے ؟ جس پر آئی جی پنجاب نے بتایا ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کے تبادلے کا حکم زبانی تھا ،چیف جسٹس نے آئی جی سے استفسار کیا رات 1 بجے تبادلہ کیا تو اس وقت آپ کہاں تھے ؟ میں نے آپ سمیت تمام آئی جیز کو کہا تھا کہ سیاستدانوں پر انحصار نہ کریں، میں نے آپ سے کہا تھا کہ آزاد ہو جائیں، آئی جی پنجاب نے کہا تبادلے کا حکم دیتے وقت میں اسلام آباد میں تھا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا آپ نے ڈی پی او سے پوچھا کہ وزیراعلیٰ نے بلا کر کیا کہا ؟ آئی جی پنجاب نے کہا واقعہ سے متعلق متضاد اطلاعات مجھ تک پہنچیں، ڈی پی او پاکپتن کو حقائق کے تحت ٹرانسفر کیا، ڈی پی او رضوان گوندل نے حقائق چھپائے اور غلط بیانی کی ،چیف جسٹس پاکستان نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا آپ نے تبادلے کے زبانی احکامات کیوں دیئے ؟ کیا صبح نہیں ہونی تھی ؟ وہ فائل دکھائیں جس میں آپ نے تبادلے کے احکامات جاری کیے۔ آئی جی پنجاب کلیم امام نے کہا میں نے شام 8 بجے ڈی پی او پاکپتن کے تبادلے کا فیصلہ کر لیا تھا۔،چیف جسٹس نے احسن جمیل گجر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ ہوتے کون ہیں تبادلے کی ہدایت دینے والے ؟ آپ وزیراعلیٰ کے دفتر میں کیا کر رہے تھے ؟ احسن جمیل گجر نے کہا میں بچوں کا گارڈین ہوں، مبشریٰ مانیکا 5 روز سے پیدل چل کر جا رہی تھی۔ چیف جسٹس نے کہا افریقہ سے فون کرائے جا رہے ہیں، آپ سمجھتے ہیں سیاسی اثر کی وجہ سے پولیس کو ذلیل کرالیں گے ؟ میں بچوں کا کفیل ہوں، ان کی وجہ سے ایکشن لیا۔ رضوان گوندل نے عدالت کو بتایا کہ احسن جمیل نے کہا آپ کو پیغام دیا لیکن آپ نے عمل نہیں کیا، کہا گیا آپ ان کے ڈیرے پر جا کر معافی مانگیں۔ چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا پولیس پر دبائو ڈالنے پر کیا مقدمہ بنتا ہے ؟ کلیم امام نے جواب دیا احسن جمیل کیخلاف پولیس پر دبائو ڈالنے کا مقدمہ بنتا ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟