25 ستمبر 2018
   ڈی پی او تبادلہ کیس،رضوان گوندل کوبیان حلفی جمع کرانے کی ہدایت

سپریم کورٹ نے سابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر پاکپتن رضوان گوندل کے تبادلے پر از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران انہیں بیان حلفی جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ خاور مانیکا فیملی کو ناکے پر روکے جانے پر ڈی پی او پاکپتن کے تبادلے پر لیے گئے ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی جب کہ عدالت کے طلب کیے جانے پر آئی جی پنجاب، آر پی او ساہیوال اور انکوائری افسر پیش ہوئے۔ سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ کیا قصہ ہے، 5 دن سے پوری قوم اس کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک بات بار بار کہہ رہا ہوں پولیس کو آزاد اور بااختیار بنانا چاہتے ہیں، اگر وزیراعلیٰ یا اس کے پاس بیٹھے شخص کے کہنے پر تبادلہ ہوا تو یہ درست نہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ خاور مانیکا اور جمیل گجر کہاں ہے، ڈیرے پر بلا کر معافی مانگنے کا کیوں کہا گیا اور رات کو ایک بجے تبادلہ کیا گیا، کیا صبح نہیں ہونی تھی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اتنی عجلت میں رات کو ایک بجے تبادلے کا نوٹفکیشن جاری کیا گیا جب کہ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سیاسی مداخلت اور اثر ورس وخ برداشت نہیں کریں گے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ ہم دیکھتے ہیں کس طرح دبائو کے تحت تبادلہ ہوتا ہے۔ انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس کلیم امام نے عدالت کے روبرو کہا کہ مجھ پر تبادلے کے لیے کوئی دبائو نہیں ہے، محکمانہ طور پر ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کا تبادلہ کیا گیا۔ آئی جی پنجاب نے  کہا کہ اسپیشل برانچ اور دیگر ذرائع سے پتہ چلا کہ رضوان گوندل درست معلومات نہیں دے رہے، وزیراعلیٰ پنجاب نے ڈی پی او رضوان گوندل کو بلایا۔ آئی جی پنجاب نے بلند آواز میں کہا کہ تبادلہ سزا نہیں ہوتا، بطور کمانڈر ہم 24 گھنٹے کام کرتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت میں اونچی آواز میں بات نہ کریں جب کہ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ آپ کہہ رہے ہیں میں نے فلاں بات کی، آپ کون ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایک خاتون پیدل چل رہی تھی پولیس نے پوچھا تو اس میں کیا غلط ہے اور کیا آپ نے وزیراعلیٰ سے ڈی پی او کو ملنے سے روکا جس پر آئی جی پنجاب نے کہا کہ لڑکی کا ہاتھ پکڑا گیا۔ آئی جی پنجاب کے بعد سابق ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل نے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے پی ایس او حیدر کی کال آئی کہ میں وزیراعلیٰ پنجاب سے ملوں، 23  اور 24 اگست والے واقعے کا قائم مقام آر پی او کو بتایا اور پورے واقعہ کا آئی جی پنجاب کو واٹس ایپ پیغام بھیجا۔ رضوان گوندل نے کہا کہ واقعے والے دن 4 بجے فون آیا آپ رات دس بجے سے پہلے وزیراعلیٰ ہاوس پہنچ جائیں جس کے بعد رات 10 بجے وہاں پہنچا تو احسن جمیل کو وزیراعلیٰ پنجاب نے بطور بھائی متعارف کرایا۔ سابق ڈی پی او پاکپتن نے مزید کہا کہ احسن جمیل نے ان سے پوچھا کہ مانیکا فیملی کا بتائیں، لگتا ہے ان کے خلاف سازش ہورہی ہے۔ رضوان گوندل نے کہا کہ ایلیٹ والوں کو گالیاں دی گئیں جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا اس پورے واقعے میں آر پی او بھی موجود تھے۔ رضوان گوندل نے بتایا کہ 26 اگست کی رات کو پی ایس او اور سی ایس او کو وزیراعلیٰ نے فون کیا اور کہا کہ آئی جی کو بتائیں ہم ڈی پی او کو 9 بجے سے پہلے تک ہٹا دیں گے، ساڑھے 12 بجے آر پی او کو فون کرکے میرے تبادلے کا بتایا وہ چونک گئے اور پھر وزیراعلیٰ پنجاب کے افسر کی طرف سے بتایا گیا کہ میرا تبادلہ کردیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلی پنجاب کے پی ایس او نے صبح پھر فون کیا کہ وزیراعلی پوچھ رہے ہیں کہ کیا آپ نے چارج چھوڑ دیا۔ چیف جسٹس نے رضوان گوندل اور آر پی او کو بیان حلفی جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو بلائیں گے، ہم مخدوم علی خان کو عدالتی معاون مقرر کر لیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے ابراہیم مانیکا، خاور مانیکا اور احسن جمیل کو طلب کرلیا اور کہا کہ 4 بجے سے پہلے سب سپریم کورٹ میں پیش ہوں، کسی اور وزیراعلیٰ کے لیے بھی آرٹیکل 62 ون ایف کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ آر پی او ساہیوال شارق کمال نے عدالت کو بتایا کہ خاور مانیکا کو ناکے پر روکا لیکن وہ نہیں رکے اور پولیس والوں کو برا بھلا کہا جس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا آئی جی نے وزیراعلیٰ کے پاس جانے سے منع نہیں کیا، آر پی او نے بتایا کہ انہوں نے منع نہیں کیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کس قانون کے تحت تبادلے کا کہہ سکتا ہے جس پر آئی جی پنجاب نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب 19 اور 20 گریڈ کا تبادلہ کرسکتا ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ 'کڑیاں مل رہی ہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے کہنے پر تبادلہ کیا گیا'۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ 'کیا خاورمانیکا نے تحریری درخواست دی تھی' جس پر آئی جی پنجاب نے کہا کہ خاور مانیکا نے بیٹی کو ہراساں کرنے کی درخواست ای میل کی، چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ڈی پی او کی جانب سے کیا بدتمیزی کی گئی جس پر آئی جی نے کہا کہ ڈی پی او نے بدتمیزی نہیں کی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا ،کیا واقعے کی انکوائری کروائی گئی اس موقع پر انکوائری آفیسر اور ایڈیشنل آئی جی ابوبکر خدا بخش نے اپنی رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ میں نے خاتون اور مانیکا فیملی سے بدتمیزی کی انکوائری کی تھی تاہم وزیراعلیٰ ہائوس سے متعلق انکوائری میرا اختیار نہیں۔ انکوائری افسر نے مزید کہا کہ خاتون سے بدتمیزی کا پہلا واقعہ 5 اگست کو پیش آیا، 6 اگست سے 23 اگست تک اس معاملے پر کوئی ایکشن نہیں لیا گیا اور نہ ہی کسی نے رابطہ کیا، میری فائںڈنگز ہیں کہ ڈی پی او کو اس واقعے کی تحقیقات کرنی چاہیے تھی۔ انکوائری افسر نے مزید بتایا کہ 24 تاریخ کو 18 دن بعد بتایا گیا کہ ایک فون بیرون ملک سے آیا جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ آپ کا موقف ہےکہ 5 اگست کے واقعے کی ڈی پی او کو تحقیقات کرنی چاہیے تھی، ریاست کی رٹ اور عزت برقرار رہنی چاہیے۔ جسٹس بندیال نے کہا کہ پولیس خدمت کے لیے ہے، آج کی پولیس تفتیش کے لیے شکایت کنندہ کو کہتی ہے کہ گاڑی لے کر آئو، ہم نے نظام کو تبدیل کرنا ہے۔ اس موقع پر رضوان گوندل نے کہا کہ میں حلفاً کہتا ہوں مجھے کسی پولیس اہلکار نے نہیں بتایا کہ لڑکی سے بدتمیزی ہوئی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پورے واقعے میں وزیراعلیٰ پنجاب کا کیا کام تھا، پتہ کر کے بتائیں خارو مانیکا اور احسن گجر کتنی دیر میں آئیں گے، کیا احسن جمیل گجر کوئی بڑا آدمی ہے۔ عدالت نے بیانات سننے کے بعد سماعت کے کچھ دیر کے لیے وقفہ کردیا۔ دوسری جانب واقعے کی انکوائری رپورٹ آئی جی پنجاب کو بھیج دی گئی جس میں بتایا گیا ہے رضوان گوندل کو مانیکا خاندان سے بدتمیزی کرنے والے اہل کاروں کے خلاف کارروائی نہ کرنے، سوشل میڈیا پر معاملے کو غلط رنگ دے کر پیش کرنے کا ذمے دار قرار دے دیا گیا ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟