26 ستمبر 2018
تازہ ترین
 ڈرنے کی ضرورت نہیں ہم انصاف کیلئے بیٹھے ہیں، چیف جسٹس

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار  نے کہا ہے کہ عوام کھل کر اپنی تکالیف کا اظہار کریں، کسی کو بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ہم انصاف کے لیے بیٹھے ہیں۔  چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں مختلف کیسز کی سماعت ہوئی۔ کراچی کے علاقے کورنگی کے رہائشیوں نے اپنے گھروں کو مسمار کئے جانے کے خلاف عدالت کے باہر احتجاج کیا تو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے مظاہرین کے وفد کو بلا کر ان کے مسائل سنے۔ درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ  ہمارے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے، کے ڈی اے والے کہتے ہیں کہ ہمارے مکان چائنا کٹنگ پرقائم ہیں، کئی شہریوں کو کے ڈی اے نے نوٹس بھی دے دیئے ہیں، اگرجگہ چائنا کٹنگ تھی تو الاٹمنٹ کیوں دی گئی؟ ہمیں انصاف دیا جائے اور ہمارے گھروں کومسمار ہونے سے بچایا جائے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ میں نے میڈیا پر آپ لوگوں کا احتجاج دیکھا، کسی کو بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ہم انصاف کے لئے یہاں بیٹھے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ عوام کھل کر اپنی تکالیف کا اظہار کریں، معاملے کا تفصیلی جائزہ لیں گے اور جن افراد کے گھر قانون کے مطابق ہیں انہیں مسمار نہیں ہونے دیں گے۔ چیف جسٹس نے کے ڈی اے کومزید کارروائی سے روکتے ہوئے 1 ماہ میں ریونیوبورڈ، کے ڈی اے اوردیگرمتعلقہ حکام سے ریکارڈ طلب کرلیا۔ علاوہ ازیں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے لاپتہ افراد کے نام مسنگ پرسن کمیشن کو ارسال کر تے ہوئے کہا  کہ ہمیں بھی لاپتہ افراد اور ان کے گھر والوں کا احساس ہے،آپ فکر نہ کریں مسنگ پرسن کمیشن آپ کے بچے کو بازیاب کرائے گا،بہت جلدلاپتہ افرادکی بازیابی ہوگی۔ اتوار کو  چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے لاپتہ افراد کے اہلخانہ نے ملاقات کی ،خاتون نے چیف جسٹس ثاقب نثار کو بتایا کہ میرا بیٹا صابرمنصور2016سے لاپتہ ہے،ہم لالوکھیت کے رہائشی ہے،میں اورمیرا شوہرہراداروں میں دھکے کھا کھا کرتھک گئے ہیں۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ لاپتہ افرادکمیشن میں اعلی افسران موجودہیں،بہت جلدلاپتہ افرادکی بازیابی ہوگی،چیف جسٹس پاکستان نے لاپتہ افرادکے نام مسنگ پرسن کمیشن کوارسال کردیئے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟