15 نومبر 2018
 ڈان ابوسلیم کا راجکمار ہیرانی کو قانونی نوٹس

بھارتی ڈان ابوسلیم نے فلم سنجو کے ہدایت کار و پروڈیوسرز کو فلم میں ان کی غلط تصویر پیش کرنے پر قانونی نوٹس بھجوا دیا۔ سنجو جیسی کامیاب فلم تخلیق کرنے والے ہدایت کار و پروڈیوسر راجمکار ہیرانی اور ودھو ونود چوپڑا مشکل کا شکار ہوگئے ہیں۔ بھارت میں دہشت کی علامت سمجھے جانے والے اور 1993 میں ممبئی دھماکوں کے کیس میں سزا کاٹ رہے بھارتی ڈان ابوسلیم نے راجکمار ہیرانی، ودھو ونود چوپڑا سمیت فلم سے جڑے دیگر لوگوں کو فلم میں ان کی غلط تصویر پیش کرنے پر قانونی نوٹس بھجوایا ۔ ابوسلیم نے کہا ہے کہ فلم میں ان کے بارے میں غلط دکھایا گیا ، لہٰذا فلم کے ہدایت کار ان سے 15 دن کے اندر معافی مانگیں ورنہ وہ ان کے خلاف ہتک عزت کا کیس دائر کریں گے۔ ابوسلیم نے قانونی نوٹس اپنے وکیل پرشانت پانڈے کے ذریعے بھجوایا ۔ پرشانت پانڈے نے فلم کے ایک سین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے نہایت غلط طریقے سے دکھایا گیا ۔ سین میں رنبیر کپور جو سنجے دت کا کردار نبھا رہے ہیں نے1993 میں ہونے والے ہنگاموں کے دوران اسلحہ اور بارود رکھنے کی بات کی تصدیق کی ، جو انہیں ابوسلیم کی جانب سے دیا گیا تھا۔ تاہم میرے موکل نے  کبھی بھی کسی بھی طرح کا اسلحہ اور گولہ بارود سپلائی نہیں کیا تھا ، جبکہ نوٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ ابوسلیم کبھی سنجے دت سے ملا ہی نہیں تھا، لہٰذا فلم میں ابوسلیم کی تصویر بگاڑنے کی کوشش کی گئی ۔ واضح رہے کہ قانونی نوٹس میں فلم کے جس سین کا ذکر کیا گیا ہے وہ فلم میں موجود ہے جس کے مطابق رنبیر کپور بیان دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہیں ابوسلیم کپڑے میں لپیٹ کر اسلحہ دے گیا تھا بعد میں دیکھا تو اس میں تین اے کے 56 رائفلز تھیں، جس پر انہوں نے فون کرکے ابوسلیم سے کہا انہیں صرف ایک چاہیے تھی اگلے دن ابو سلیم دو رائفلز واپس لے گیا تھا۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟