ڈالر142کی بلند ترین سطح کو چھو کر 138 روپے پرآگیا

اسٹیٹ بنک پاکستان نے ڈالر ریٹ میں اضافے کے بعد مداخلت کرتے ہوئے کمرشل بنکوں کو ہدایات جاری کی ہیں،جس کے بعد ڈالر 138 پر ٹریڈ ہونا شروع ہو گیا ہے، قبل ازیں انٹر بینک میں ڈالر 8 روپے اضافے سے 142 روپے پر ٹریڈ ہونے لگا تھا. ڈالر کی اونچی اڑان کے باعث مہنگائی کا نیا طوفان آنے کا خدشہ ہے۔ حکومت نے 100 روزہ کارکردگی کے ڈنکے تو خوب بجائے مگر روپے کی تنزلی تو کچھ اور ہی کہانی سنا رہی ہے۔ ایک ہی روز میں انٹر بینک میں ڈالر 8 روپے اضافے سے تاریخ کی بلند ترین سطح 142 روپے پر ٹریڈ کرنے لگا، ڈالر کی قیمت بڑھنے سے صرف ایک ہی روز میں ملک پر واجب الاا قرضوں کے بوجھ میں 760 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا، اس طرح پی ٹی آئی حکومت کے آنے کے بعد سے اب تک ڈالر روپے کے مقابلے 18 روپے مہنگا ہوا، جس سے مجموعی طورپر بیرونی قرضوں میں 17 ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ ہوا۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آ جائے گا اور درآمدی مصنوعات جس میں کھانے کا تیل، مختلف دالیں، خشک دودھ، پیٹرول، ڈیزل، الیکٹرونکس مصنوعات، موبائل فونز، موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں وغیرہ سب کچھ مہنگا ہوجائے گا۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق تجارتی خسارہ اور قرض و سود کی ادائیگیوں کے باعث ہر ہفتے زرمبادلہ کے ذخائر میں اوسط 200 ملین ڈالر کی کمی ہورہی ہے اور زرمبادلہ ذخائر گرتے ہی چلے جارہے ہیں، موجودہ صورتحال میں دوست ممالک اور آئی ایم ایف سے قرض کا ملنا ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں کمی کا باعث بن رہا ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟