22 ستمبر 2018
تازہ ترین
ڈار کی وطن واپسی ، متعلقہ محکموں سے مشاورت جاری

اٹارنی جنرل انور منصور نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی وطن واپسی کے لیے تمام متعلقہ محکموں سے مشاورت جاری ہے۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اسحاق ڈار کی وطن واپسی کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اسحاق ڈار کا سفارتی پاسپورٹ منسوخ کیا جا چکا ہے اور ان کا عام پاسپورٹ بھی منسوخ کردیا جب کہ نیب کی درخواست پر وزارت داخلہ نے اسحاق ڈار کو بلیک لسٹ کردیا ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت اسحاق ڈار کے پاس کوئی سفری دستاویز نہیں جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا تو پھر اسحاق ڈار کیسے واپس آئیں گے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ انہیں وطن واپس لانے کے لیے طریقہ کار موجود ہے۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل انور منصور سے مکالمے کے دوران کہا کہ کیا آپ نے یہ معاملہ دیکھا ہے جس پر انہوں نے بتایا کہ اسحاق ڈار کو وطن واپسی کے معاملے پر متعلقہ حکام سے بات کی ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ نیب کی جانب سے اسحاق ڈار کو مفرور قرار دینے کا آپ کو علم ہوگا، کیا اب بھی ریاست انہیں واپس نہیں لاسکتی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ برطانیہ سے تحویل ملزمان کا معاہدہ موجود ہے جس پر اٹارنی جنرل نے کہا اس کے لیے وہاں کی عدالتوں میں جانا پڑے گا۔ سماعت کے دوران پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے اسحاق ڈار کی جائیدادیں شناخت کرلی ہیں اور جائیدادوں کو منسلک کرنے کیلئے کارروائی جاری ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسحاق ڈار کی وطن واپسی کے لیے تمام متعلقہ محکموں سے مشاورت جاری ہے جس پر عدالت نے اسحاق ڈار کی وطن واپسی کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو اسحاق ڈار کی واپسی کے لیے اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ 


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟