15 نومبر 2018
 چین میں لیزر کلاشنکوف کی تیاری

چین نے کلاشنکوف کی طرح ایک لیزر گن بنانے کا دعویٰ کیا جو 800 میٹر کی دوری سے انسانی جسم اور لباس کو جلا سکتی ہے۔ سائوتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کے مطابق زیڈ کے زیڈ ایم نامی ایک کمپنی نے یہ ہولناک ہتھیار بنایا ہے۔ اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ اس رائفل کی لیزر شعاع عام آنکھ سے دکھائی نہیں دیتی لیکن فوری طور پر انسانی جلد کو بہت گہرائی سے جلا سکتی ہے۔ لیزر رائفل کا وزن صرف 3 کلوگرام ہے جس میں چارج ہونے والی لیتھیئم آئن بیٹری لگائی گئی اور یہ دو دو سیکنڈ کے 1000 لیزر جھماکے فائر کر سکتی ہے۔ لیزر بندوق پر کام کرنے والے ایک سائنسدان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ لیزر سے ہونی والی تکلیف ناقابل برداشت ہوتی ہے، لیکن اس ہتھیار کی دیگر تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ امریکی تجزیہ کاروں نے اس ایجاد کو صرف ایک دعویٰ قرار دیا  کیونکہ اتنی مختصر گن میں طاقتور لیزر نظام نصب کرنا ممکن نہیں کیونکہ اس قسم کی لیزر کیلئے ایک طویل نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔ سائنسی قوانین بھی اس کی اجازت نہیں دیتے کیونکہ ایک چھوٹی سی بیٹری اتنی طاقتور لیزر نہیں بنا سکتی۔ اس پر کام کرنے والے ایک چینی ماہرن نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے لیزر گن کے بارے میں تمام سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کی ۔ ان کے مطابق اسے مجرموں اور دشمنوں کو مارنے کی بجائے انہیں عارضی طور پر بے بس اور تکلیف دینے کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ لیزر کی وجہ سے اغوا کاروں اور چھپے ہوئے دہشت گردوں کو اس سے بہ آسانی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ زیڈ کے زیڈ ایم کمپنی ایک سائنسی ادارے کی ملکیت ہے اور کمپنی نے کہا ہے کہ وہ اس کے تجارتی ماڈل پر کام کر رہی ہے اور ایک گن کی قیمت 16 لاکھ روپے ہوگی۔ تاہم اسے پہلے چینی پولیس اور افواج کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ گزشتہ ماہ چین کے شہری اور فوجی رابطے کے ادارے میں اس رائفل کی تکنیکی دستاویز جاری کی گئیں۔ اس سے قبل چینی عسکری ماہرین نے لیزر مشین گن کا بھی اعلان کیا تھا۔ تاہم یہ گن جان لیوا نہیں اور جسم کے ایک حصے کو جلا کر شدید تکلیف کا احساس پیدا کرتی ہے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟