19 جنوری 2019
تازہ ترین
چینی قونصل خانے پر حملے میں  را  ملوث ہے،ایڈیشنل آئی جی سندھ

ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر امیر شیخ نے دعویٰ کیا ہے کہ چینی قونصلیٹ پر حملے کے منصوبے میں ملوث بلوچستان لبریشن آرمی کے 5 دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا گیا، جبکہ ایک دہشت گرد کی تلاش میں چھاپے مارے جارہے ہیں، تاہم اس کے بارے میں بھی رپورٹس ہیں کہ وہ مارا جاچکا ہے۔ کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر امیر شیخ نے بتایا کہ سی پیک منصوبے میں دراڑیں ڈالنے کے لیے چینی قونصلیٹ پر حملہ کیا گیا۔ ڈاکٹر امیر شیخ کے مطابق گرفتار دہشت گردوں میں عبدالطیف، حسنین، عارف عرف، ہاشم عرف علی اور اسلم مغیری شامل ہیں۔  حملے کا منصوبہ بی ایل اے کمانڈر اور ماسٹر مائنڈ اسلم اچھو نے افغانستان میں بنایا، جسے بھارت اور اس کی خفیہ ایجنسی راکی حمایت حاصل ہے۔ کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ کے مطابق حملے کے ماسٹر مائنڈ اسلم عرف اچھو کے افغانستان میں مرنے کی اطلاعات ہیں، تاہم اس کی لاش نہیں ملی ہے اور اسلم اچھو کے بعد افغانستان میں بشیر زیب بی ایل اے کی کمانڈ سنبھال رہا ہے۔ سہولت کار حملے سے قبل اگست سے نومبر کے دوران کراچی آتے جاتے رہے اور مختلف جگہوں پر رہے۔  یہ دہشت گرد جعلی شناختی کارڈ پر آتے تھے اور انہوں نے اپنے مختلف نام رکھ کر شناختی کارڈ بنا رکھے تھے۔ چینی قونصلیٹ پر حملے کی کارروائی کے لیے اسلحہ ریلوے کے ذریعے لایا گیا اور بلدیہ ٹائون میں رہائش پذیر ایک مکینک عارف نے سہولت کاری کرتے ہوئے اس اسلحے کو چھپایا جبکہ ملزمان بھی اسی گھر میں رہے اور وہیں سے حملے والے دن صبح چینی قونصلیٹ پہنچے۔ ڈاکٹر امیر شیخ کے مطابق ریکی کے دوران دہشت گرد مختلف گاڑیاں استعمال کرتے رہے، تاہم حملے والے دن جو گاڑی انہوں نے استعمال کی، اس کا مالک اسے فروخت کرچکا تھا جبکہ بعدازاں یہ گاڑی او ایل ایکس پر بکتی رہی۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟