پی ٹی ایم وہ حد عبور نہ کرے جہاں ریاست کو زور لگانا پڑے،جنرل آصف

ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے پشتون تحفظ موومنٹ کو خبردار کیا ہے کہ وہ حد عبور نہ کرے کہ ریاست کو زور لگانا پڑے اور اپنی رٹ قائم کرنی پڑے۔ راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارتی فوج جان بوجھ کر پاکستان شہری آبادی کو نشانہ بناتی ہے، حکومت پاکستان نے امن کیلئے بہت قربانیاں دی ہیں۔   میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ کرتارپور کے معاملے پر بھارت نے منفی پراپیگنڈا کیا، یہ راہداری صرف ون وے ہوگی جس کے کھلنے سے 4 ہزار بھارتی یاتری روزانہ پاکستان آسکیں گے اور اسی راستے سے اسی روز واپس جائیں گے، لیکن پاکستان کی جانب سے کوئی اس راستے سے بھارت نہیں جا سکتا۔  پی ٹی ایم کے ساتھ اب تک ہلکا ہاتھ رکھا ہے، ان کے تین مطالبات ہم نے ان کے کہنے سے پہلے ہی پورے کردیے تھے، پی ٹی ایم وہ لائن کراس نہ کرے جہاں ریاست کو اپنی رٹ قائم کرنا پڑے اور زور لگانا پڑے، وہ لاپتہ افراد کے معاملے سے بہت آگے چلے گئی ہے۔ بھارتی آرمی چیف کے پاکستان کو سیکولر بننے کے بیان سے متعلق سوال کے جواب میں میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت پہلے خود سیکولر بنے پھر ہمیں بھاشن دے، بھارتی آرمی چیف کو بتانے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان کیسا ملک بنے، بھارت خود سیکولر جمہوریہ ہے پہلے خود تو سیکولر بن جائے، بھارت خود کیسی سیکولر ریاست ہے، بیس کروڑ مسلمانوں کی وہاں کیا حالت ہے۔  دو سال کے دوران 400 افسروں کے خلاف کارروائی ہوئی، ایک فوجی افسر کو دس ہزار کی کرپشن پر فارغ کرکے گھر بھجوادیا گیا، ہماری پہلی خواہش ہوتی ہے غلطی نہ ہو، کرپشن ہو یا چھٹی لیے بغیر جانے پر بھی سزا ہوتی ہے، سزا پانے والوں میں ہر رینک کا افسر شامل ہے، انہیں جیل بھی بھیجا گیا، سروس سے برطرفی اور جیل کی حد تک بھی پاک افواج میں سزا ہوتی ہے۔ ہمیشہ کہا جاتا رہا ہے کہ پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے، لیکن اب نازک دور سے چلتے ہوئے ہم آگے کی جانب آگئے ہیں، اب یا تو آگے نازک وقت نہیں ہے، یا پھر نازک سے بھی زیادہ بد تر وقت ہے، ہم نے جنگی لڑ لیں آدھا ملک گنوا دیا اور ایٹمی قوت بھی بن گئے، بھارت کے ساتھ کئی جنگیں ہوئی کشمیر کا معاملہ بھی حل نہ ہوا، ملک کے کتنے نازک دور آئے اور اس کے ذمہ دار کون ہے؟ یہ سوچنا ہے۔  ہماری فالٹ لائنس میں معیشت، کمزور گورننس، عدالتی و تعلیمی نظام، مذہب و فرقہ ورانہ اشتعال انگیزی شامل ہیں، ہم خود اس میں پڑے اور دشمن نے اس سے فائدہ اٹھایا، آج ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں، آج کی پاکستانی فوج کل کی فوج نہیں ہے، لیکن پچھلے 70 سال کے مدو جزر میں رہیں گے تو آگے نہیں جاسکتے، ملک کو ایک ایک اینٹ لگاکر دوبارہ بنا رہے ہیں ، لاپتہ پاکستانی بھی ہمیں اتنا ہی عزیز ہے جتنا اہلخانہ کو ہے، فوجی عدالتوں میں لاپتہ افراد کے 90 فیصد کیسزحل ہوچکے۔  آئندہ ہم کسی اور کی جنگ پاکستان میں نہیں لڑیں گے، ملک کے اندرونی خطرات سے نمٹ کر معاملات ٹھیک کرنا چاہیے ، بلوچستان میں سیکیورٹی آپریشن کیلیے حکمت عملی تبدیل کی ہے، پچھلے تین سال میں 2200 فراری قومی دھارے میں شامل ہوئے اور ہتھیار ڈال دیے ہیں، صوبے میں  امن وامان کی صورتحال ماضی سے بہتر ہے۔  کراچی میں 99 فیصد جرائم میں کمی آئی ہے اور رینجرز نے 9سال سے قربانیاں دے کر امن بحال کیا، شہر میں کاروباری سرگرمیاں تیزی سے بحال ہوچکی ہیں اور سرمایہ کاری آ رہی ہے۔ افغان بارڈر پر ہم نے اپنی جانب سے بہت بہتری کرلی ہے، سرحد پر باڑ لگا رہے ہیں، 2611 کلومیٹر پر باڑ لگاچکے ہیں۔  آپریشن ردالفساد کو دو سال مکمل ہونے والے ہیں، پورے ملک میں 44 بڑے آپریشن ہوئے ہیں، پورے ملک سے 32 ہزار ناجائز اسلحہ پکڑا، کوئی بھی جنگ صرف آپریشن سے ختم نہیں ہوتی۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟