24 ستمبر 2018
تازہ ترین
پی ایس ایل  کے آڈٹ میں بے ضابطگیاں

تبدیلی آنے سے پی ایس ایل کے  پردوں میں چھپے راز سامنے آنے لگے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے کرائے گئے پی ایس ایل ون اور ٹو کے آڈٹ میں سنگین نوعیت کی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں، ذرائع کے مطابق کئی اہم معاہدے بغیر ٹینڈر جاری کئے فائنل ہوئے، اس میں  مبینہ طورپر من پسند افراد کو نوازا گیا، اگر اشتہار جاری ہوتا تو پی سی بی کو کئی گنا زیادہ رقم حاصل ہو سکتی تھی۔ پروڈکشن رائٹس اور ٹکٹنگ کے معاہدوں پر بھی اعتراض سامنے آیا، ملازمین کی قابلیت سے زیادہ تنخواہوں اور بونسز وغیرہ پر اعتراضات اٹھے، اینٹی کرپشن یونٹ کے کرنل (ر) اعظم کے آرمی سے این او سی نہ لینے پر اعتراض کیا گیا، افتتاحی تقاریب پر بھاری رقم خرچ کرنے پر بھی سوال اٹھا۔ اسی طرح نائلہ بھٹی کو پروجیکٹ منیجر اور عثمان واہلہ کو ہیڈ آف کرکٹ آپریشنز مقرر کرنے پر اعتراضات سامنے آئے۔ اس حوالے سے بھی کہا گیا کہ ان سے زیادہ قابل لوگ موجود تھے پھر بھی انہیں ہی کیوں اہم ذمہ داری سونپی گئی، آفیشلز کے دوروں اور اخراجات وغیرہ پر بھی اعتراض سامنے آیا، بعض ملازمین کی تنخواہوں اور ڈبل بونس پر بھی سوال اٹھے، اینٹی کرپشن یونٹ کے کرنل (ر) اعظم کے آرمی سے این او سی نہ لینے پر اعتراض کیا گیا، افتتاحی تقریب پر بھاری رقم خرچ کرنے پر بھی سوال اٹھا۔ ذرائع  کے مطابق پہلے ایڈیشن کی آڈٹ رپورٹ وزارت بین الصوبائی  رابطہ کو بھی ارسال کی گئی ، نجم سیٹھی نے اپنے استعفے سے 2 روز قبل اعتراضات کا جواب آڈیٹر جنرل کو بھیجا تھا، اب اس حوالے سے پی سی بی، آئی پی سی اور اے جی پی کے حکام مل بیٹھ کر بات کریں گے۔ ذرائع کے مطابق نئی حکومت آڈٹ رپورٹ کو پبلک کرنے کا سوچ رہی ہے تاکہ پی ایس ایل کے حوالے سے حقائق سامنے آ سکیں، چونکہ یہ آڈٹ پہلے ہی ہو چکا تھا اس لئے  سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے والی بات بھی لاگو نہیں ہو سکے گی۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟