21 جولائی 2019
تازہ ترین
پی ایس ایل کا 5مارچ کو لاہور میں فائنل

پی ایس ایل کا 5مارچ کو لاہور میں فائنل

پاکستان سپر لیگ کا فائنل پانچ مارچ کو لاہور میں ہی  ہوگا، پی ایس ایل انتظامیہ اور پی ایس ایل فرنچائز ٹیموں کے مالکان کے مابین فائنل کو لاہور میں منعقد کروانے کے بارے میں اتفاق ہوگیا، پی ایس ایل میں حصہ لینے والی پانچوں کرکٹ ٹیموں کے مالکان نے اس سلسلہ میں پی ایس ایل کے چیئرمین نجم سیٹھی کو اپنی رضامندی سے  آگاہ کردیا، پی سی بی کی میڈیا ریلیز کے مطابق پاکستان سپر لیگ کی مینجمنٹ اور اس کی فرنچائز ٹیموں کے مالکان کے مابین اعلی سطح کا اجلاس دوبئی میں منعقد ہوگا ،اجلاس میں پی ایس ایل کے متعلقہ ایڈمنسٹریٹو اور ایونٹس کے معاملات زیر بحث آئے اور پی ایس ایل کے فائنل کو لاہور میں منعقد کروانے کے بارے میں تمام فرنچائز نے یک جہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی رضامندی کا اظہار کیا جس کے بعد پی ایس ایل کے چیئرمین نجم سیٹھی نے پی ایس ایل کو لاہور میں ہی منعقدکروانے کا اعلان کردیا،نجم سیٹھی نے کہاکہ پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کی طرف پہلا قدم ہوگا اور پھر دیگر ٹیمیں بھی پاکستان آئیں گی ،انہوں نے کہاکہ فرنچائز ٹیموں کے مالکان کی طرف سے پی ایس ایل کے فائنل کو لاہور میں منعقد کروانے کے فیصلہ کی حمایت اور یک جہتی نے پی ایس ایل مینجمنٹ اور پاکستانی تماشائیوں کے دل جیت لئے ہیں،لاہور میں فائنل کے انعقاد سے پاکستانی تماشائی اپنی ہوم گرائونڈ میں انٹرنیشنل کرکٹ کو کھیلتے ہوئے دیکھیں گے اور یہ فائنل کافی تفریح کا موقع فراہم کرے گا، ذرائع نے بتایا ہے کہ پی ایس ایل انتظامیہ اور فرنچائز ٹیموں کے مالکان کے اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اگر غیر ملکی کھلاڑی پی ایس ایل فائنل کےلئے پاکستان نہیں آتے تو پھر بھی فائنل ہر صورت لاہور میں ہی ہوگا اور اس سے فرنچائز ما لکان کو کوئی فرق نہیں پڑے گا،دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ، سری لنکا اور بنگلہ دیش سمیت 50 غیر ملکی کھلاڑی پی ایس ایل فائنل کےلئے پاکستان آنے پر رضا مند ہیں جبکہ کراچی کنگز، اسلام آباد یونائیٹڈ اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے غیر ملکی کوچز بھی پی ایس ایل فائنل کےلئے لاہور آنے پر آمادگی ظاہر کر چکے ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل فائنل کےلئے پاکستان آنے والے ہر غیر ملکی کھلاڑی کو 10 ہزار ڈالر اضافی دیئے جائیں گے جبکہ انہیں وی وی آئی پی سکیورٹی بھی فراہم کی جائے گی،واضح رہے کہ لاہور اور ملک کے دیگر حصوں میں ہونے والے خود کش حملے کے بعد اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ اب پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں نہیں ہو گا تاہم دبئی میں پی سی بی، پی ایس ایل انتظامیہ اور فرنچائز مالکان کے اجلاس کے بعد اس قسم کی تمام افواہیں دم توڑ گئی ہیں اور اب پاکستان سپر لیگ کا فائنل 5 مارچ کو لاہور میں ہی ہو گا،پاکستان کرکٹ بورڈ پہلے یہ اعلان کرچکا ہے کہ وہ ہر قیمت پر فائنل لاہور میں کرائے گا تاہم پاکستان کے مختلف شہروں میں حالیہ خود کش دھماکوں کے بعد لاہور میں فائنل کے انعقاد کے بارے میں شکوک وشبہات ظاہر کیے جا رہے تھے،اس صورتحال میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی فائنل کے انعقاد میں فوج کی جانب سے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی،پیر کو ہونے والے اجلاس میں تمام پانچوں فرنچائزز مالکان نے فائنل کے پاکستان میں انعقاد کی حمایت کی اور یہ کہا ہے کہ اس وقت قومی یک جہتی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے اور اس ضمن میں یہ فائنل لاہور میں ہی کرایا جائے،پیر کو ہونے والے اجلاس میں تمام پانچوں فرنچائزز مالکان نے فائنل کے پاکستان میں انعقاد کی حمایت کی اور یہ کہا ہے کہ اس وقت قومی یک جہتی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے اور اس ضمن میں یہ فائنل لاہور میں ہی کرایا جائے،پاکستان کے مختلف شہروں میں حالیہ خود کش دھماکوں کے بعد لاہور میں فائنل کے انعقاد کے بارے میں شکوک وشبہات ظاہر کیے جا رہے تھے، اس سلسلہ میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے تمام فرنچائزز سے کہا ہے کہ وہ غیر ملکی کرکٹرز کو لاہور میں فائنل کھیلنے کے لیے قائل کرنے کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں۔ دوسری جانب کرکٹرز کی ایسوسی ایشنز کی فیڈریشن فیکا نے ایک بار پھر لاہور میں فائنل کے انعقاد کو سکیورٹی کا خطرہ قرار دے دیا ہے۔ فیکا کے چیف ایگزیکٹو ٹونی آئرش نے پیر کو ایک بیان میں کہا ہے کہ لاہور میں سکیورٹی کا خطرہ موجود ہے اور فیکا نے اس ضمن میں تمام کرکٹرز کو ہائی سکیورٹی رسک سے آگاہ کر دیا ہے اب یہ ان کرکٹرز پر منحصر ہے کہ وہ لاہور جانے کے بارے میں کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ فیکا نے پاکستان سپر لیگ کے آغاز پر بھی ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ غیر ملکی کرکٹرز لاہور کا سفر اختیار کرنے سے گریز کریں لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس رپورٹ کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ یہ حقائق پر مبنی نہیں ہے۔  پی سی بی نے تمام ٹیموں کو موجودہ کھلاڑیوں کی جانب سے لاہور آنے سے انکار کی صورت میں ان کے متبادل کے انتخاب کے لیے غیرملکی کھلاڑیوں کی فہرست جاری کردی ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق کے مطابق پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سمی نے لاہور آنے کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں انگلینڈ کے روی بوپارہ، ڈیوڈ ملان اور کرس جارڈن بھی شامل ہیں۔ پی ایس ایل حکام کا کہنا ہے کہ لاہور میں فائنل کھیلنے والے غیر ملکی کھلاڑیوں کو 10 ہزار ڈالرز اضافی دیے جائیں گے۔ لاہور آنے سے انکار کرنے والے بڑے ناموں میں کراچی کنگز کےکپتان کمارسنگاکارا اور کرس گیل شامل ہیں جنھوں نے لاہور آنے سے معذرت کی ہے۔ پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں وہ غیر ملکی کھلاڑی شامل ہیں جو پی ایس ایل کے رواں سیزن میں ٹیموں کا حصہ نہیں ہیں۔ ان کھلاڑیوں میں سری لنکا کے جیون مینڈس، کوشل مینڈس، ویسٹ انڈیز کے سابق کھلاڑی فیڈل ایڈورڈز، انگلینڈ کے اویس شاہ اور برطانیہ میں مقیم پاکستان کے یاسر عرفات بھی شامل ہیں۔ زمبابوے کے سابق کپتان برینڈن ٹیلر ، ایلٹن چیگمبرا اور ویسٹ انڈیز کے سلیمان بین بھی شامل ہیں۔ انگلینڈ، ویسٹ انڈیز، سری لنکا اور بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کی اکثریت نے پاکستان آنے کی رضامندی ظاہر کی ہے جن میں بنگلہ دیش کے امرالقیس اور شہریار نفیس کے نام قابل ذکر ہیں۔ لاہور میں پی ایس ایل کے فائنل کے لیے رضامند کھلاڑیوں کے نام یہ ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے پاکستانی نږاد روحان مصطفیٰ ، ویسٹ انڈیز کے ڈیون تھامس، جیسن محمد، شین شلنگفرڈ، ڈینز حیات،کشور، سینٹوکی،ٹینو بیسٹ،فیڈل ایڈورڈز، میگوئیل کمنز،  ریاد ایمرت ، سلیمان بین، عقیل جیروم حسین، زمبابوے:کے کریگ ایرون، سین ولیمز، ایلٹن چیگمبرا، برینڈن ٹیلر، گریم کریمر، سین ایرون  بنگلہ دیش کے انعام الحق، شہریار نفیس، سومیا سرکار ، انگلینڈ کے ڈیوڈ ملان ، الیکس ویکلے ، جیشوا کوب، عظیم رفیق، فل مسٹرڈ،میکس والر ،ڈیرن اسٹیونز ، پیٹر ٹریگو، جیڈ ڈیرنبیچ، اویس شاہ ،جنوبی افریقہ کے مورنے وین ویک ، رچرڈ لیوی، سری لنکا کے سچیترا سینانایئکے، سیکوگے پراسنا، جیون مینڈس ، دنوشکا گناتھیلاکا،فرویز معروف، کوسل مینڈس، چمارا کپوگیدرا، ملینڈا سری وردنا ، انوک فرنانڈو ، گیہان روپاسنگھے ، کوسل سلوا کینیڈا کے نیکھیل دتہ ، افغانستان کے اصغر ستنکزئی، دولت زدران،نوروز مینگل، راشد خان ، امریکہ کے اسٹیوں ریان، نیدرلینڈز کے ریان ٹین ڈوئشے شامل ہیں۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟