18 اگست 2019
تازہ ترین
 پی ایس ایل  اسپاٹ فکسنگ میں پی سی بی کا دوہر ا معیار ، سابق کرکٹرز

 پی ایس ایل  اسپاٹ فکسنگ میں پی سی بی کا دوہر ا معیار ، سابق کرکٹرز

سابق کرکٹرز نے پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ کیس میں پی سی بی کے کردار کو  آڑے ہاتھوں لیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سابق کرکٹرز نے پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ کیس میں پی سی بی کے کردار کو  آڑے ہاتھوں لیا ہے، ایک انٹرویو میں جاوید میانداد نے کہا کہ ایک ہی جرم میں شرجیل خان اور خالد لطیف کو واپس بھجوا دیا گیا، مگر محمد عرفان اور دیگر کو کھیلنے کی اجازت دیدی گئی،یا تو سارا کیس اس وقت غلط تھا یا اب درست نہیں سنبھالا جا رہا، میں محمد عامر کو ٹیم میں شامل کرنے کے خلاف تھا، جیل کی ہوا کھانے والوں کو ملکی نمائندگی کا موقع دینے سے اسی طرح کے نتائج سامنے  آسکتے ہیں، انھوں نے کہا کہ اب وزارت داخلہ نے مداخلت کی تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دینا چاہیے، کسی سے مت ڈریں، ایک بار صفائی ہو تو سب ٹھیک ہوجائے گا، چوروں کو پکڑیں تو کئی بڑے نام  آئینگے۔ فکسنگ کی لعنت کو جڑ سے ختم کرنا ہوگا۔عامرسہیل نے کہا کہ پی سی بی نے ہوم ورک نہیں کیا تھا، اب حکومتی ایجنسی کو مداخلت کرنا پڑی، بورڈ نے پہلے کہا کہ ٹھوس شواہد ہیں، اگرایسا تھا تو2 کرکٹرزکو معطل اورعرفان سمیت دیگر کو کھیلنے کیوں دیا، یہ دہرا معیار ہے، کسی بااثرشخص نے طویل قامت پیسر کو روک لیا ہوگا، محمد عامر کو قومی ٹیم میں شامل اور جسٹس قیوم رپورٹ کی زد میں  آنے والوں کو بورڈ میں مواقع دینے کے فیصلے نہ کیے جاتے تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔ اس ساری صورتحال میں بورڈ کی ناکامی نظر  آتی ہے۔ایف  آئی اے بھی کہہ رہی ہے کہ فرانزک رپورٹ کے بعد بتائیں گے، اب معاملہ دبا دیا جائے گا یا واقعی سنجیدہ ایکشن سامنے  آئےگا۔


مزید خبریں

عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟