پیپلز پارٹی اپوزیشن جماعتوں کے صدارتی امیدوار کو قبول کرے،فضل الرحمان

ایم ایم اے کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے شکوہ کیا ہے کہ ڈنڈے کھانے، جیلیں کاٹنے اور قربانی کے لیے ہم قبول ہیں تو پھر صدارت کے لیے کیوں قابل قبول نہیں ہیں۔ اپوزیشن کے صدارتی امیدوار مولانا فضل الرحمان نے لاہور میں ن لیگ کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے ملاقات کی شہباز شریف کی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقات میں حمزہ شہباز، ایاز صادق ، اکرم درانی ، مولانا امجد و دیگر رہنما بھی موجود تھے ، دونوں رہنمائوں نے ملاقات میں صدارتی انتخابات سے متعلق حکمت عملی کی تیاری سمیت مختلف نوعیت کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا  مولانا فضل الرحمان نے  شہباز شریف سے ملاقات کے بعد لیگی رہنمائوں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  کہا کہ شکریہ کے جذبات کے ساتھ شہباز شریف کی رہائش گاہ پر آئے، حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے ایم ایم اے پر اعتماد کیا ہے، شہباز شریف کا شکر گزار ہوں انہوں نے اس محاذ پر مجھ پر اعتماد کیا ،  صدارتی انتخابات مشترکہ  طور پر لڑیں گے، کوشش کریں گے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں ایک امیدوار پر متفق ہوں، مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے مجھے آل پارٹیز کا کنوینر نامزد کیا اور دوسری جماعتوں نے اس کی تائید کی۔  انہوں نے کہا کہ کوشش ہے کہ متحدہ اپوزیشن کے امیدوار کو آج ہی تسلیم کر لیا جائے تاکہ وحدت کا مظاہرہ ہو۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ دستبردار ہونے کے لیے مجھے ایم ایم اے کی 5 جماعتوں اور اے پی سی کی 5 جماعتوں کو اعتماد میں لینا ہے جب کہ پیپلز پارٹی اپنے امیدوار کو دستبردار کرنے کے لیے اپنے فورم پر فیصلہ کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی، آصف زرداری اور اعتزاز احسن سے اچھے دوستانہ تعلقات ہیں، ڈنڈے کھانے، قربانیاں دینے اور جیلیں کاٹنے کے لیے ہم قابل قبول ہو سکتے ہیں تو صدارتی الیکشن کے لیے کیوں قابل قبول نہیں ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے وزیراعظم کے الیکشن کے لیے بھی اپنے 53 ووٹ خاموش کرا کر عمران خان کو وزیراعظم بننے کا موقع فراہم کیا انہوں نے کہا کہ ن لیگی قائدین صدارتی الیکشن کا معرکہ سر کرنے کے لیے مکمل طور پر یکسو اور تیار ہیں، پیپلز پارٹی بھی اپوزیشن جماعتوں کے امیدوار کو قبول کرے۔ اس موقع پر بات کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ اور دیگر اپوزیشن جماعتیں صدارتی الیکشن کے لیے فضل الرحمان کو ووٹ کرنے جا رہی ہی لیکن پیپلز پارٹی اور آصف زرداری کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے انہوں نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی واقعی چاہتے ہیں کہ اپوزیشن متحد ہو تو پھر انہیں تقسیم کا کام نہیں کرنا چاہیے جیسے انہوں نے شہباز شریف کے الیکشن کے وقت تقسیم کا کام کیا تھا۔ لیگی رہنما حمزہ شہباز نے کہا کہ ن لیگ اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے صدارتی الیکشن کے لیے متفقہ طور پر مولانا فضل الرحمان کو امیدوار چنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جو پارٹیاں راضی نہیں انہیں بھی راضی کرنے کی کوشش کریں گے، کوشش ہے کہ ہمیں بھرپور کامیابی حاصل ہو ان کا کہنا تھا کہ مل کر بھرپور اپوزیشن کریں گے۔

 


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟