19 جون 2018
تازہ ترین
 پاکستان کو نئے ثالثی سرمایہ کاری قوانین سے خطرہ

پاکستان کے بین الاقوامی میثاق توانائی معاہدہ پر باضابطہ دستخط کرنے کی وجہ سے اسے نئے ثالثی سرمایہ کاری قوانین سے خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، جبکہ اس معاہدے کے تحت کئی بااثر سرمایہ کاروں نے دنیا کے مختلف ٹریبینل میں مختلف ممالک کے خلاف 35 ارب ڈالر کے لیے مقدمہ دائر کیا ہوا ہے۔  نجی ٹی وی کے  مطابق  یہ تنبیہ یورپ کے دو غیر منافع ریسرچ اور ایڈوکیسی گروپ کارپوریٹ یورپ اوبزرویٹری  اور دی ٹرانزنیشنل انسٹیٹوٹ  کی پاکستان میں ای سی ٹی کے اثرات کے حوالے سے تحقیق میں سامنے آئی۔پاکستان 2006 سے ای سی ٹی میں نگراں ممالک کے طور پر شامل ہے، تاہم یہ ملک میں زیادہ سرمایہ کاری اور توانائی فنڈنگ کے لیے اس کا فل ممبر بننے کا خواہاں ہے۔ دنیا کے 88 ممالک اس تنظیم کے ممبر ہیں، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق یورپ سے ہے۔رپورٹ میں خبر دار کیا گیا ہے کہ یہ جانتے ہوئے کہ پاکستان میں ثالثی سرمایہ کاری ایک متنازع فعل ہے لیکن پھر بھی حکومت ای سی ٹی کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح بین الاقوامی کمپنیاں اس بین الاقوامی سرمایہ کاری کی مدد سے حکومتوں کے خلاف 35 ارب ڈالر تک کے مقدمے بین الاقوامی ٹریبیونل میں دائر کیے ہوئے ہیں۔بین الاقوامی نگراں اداروں کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان اس وقت ایک ترک کمپنی کو کارکے رینٹل پاور کیس میں 80 کروڑ ڈالر کا ثالثی ایوارڈ ختم کروانے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جب پاکستان کو پہلی مرتبہ 1995 میں سوئیٹزرلینڈ کے ساتھ دو طرفہ معاہدے سے 2001 میں بین الاقوامی مقدمے کا سامنا کرنا پڑا، اس وقت حکومت میں کوئی بھی معاہدے کا مواد حاصل نہیں کرسکا، اور انہیں سوئیز حکومت سے اس کی نقل کی درخواست کرنی پڑی۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ تھر کے ریگستان میں چینی اور پاکستانی سرمایہ کار نئے پاور پلانٹ کے لیے گندے بھورے کوئلے کے لیے کھدائی کر رہے ہیں۔


عوامی سروے

سوال: کیا نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق بیان کے بعد ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے؟