15 نومبر 2018
پاکستان کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے،وزیراعظم

 پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ  آئی ایس پی آر  نے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان نے جنرل ہیڈ کوارٹرز جی ایچ کیو کے دورے میں دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کی قربانیوں کی تعریف کی اور کہا کہ قوم کے تعاون سے تمام چیلنجز کو شکست دیں گے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق عسکری قیادت نے وزیر اعظم اور وزرا کو بریفنگ دی، وزیراعظم نے کہا کہ پاک فوج کی صلاحیت اور استعداد کار بڑھانے کے لیے حکومت مکمل تعاون کرے گی، پاکستان کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے، پاکستان ترقی کرے گا اور دنیا میں اپنا مقام پیدا کرے گا

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ خزانہ، داخلہ، خارجہ اور اطلاعات کے وزرا بھی وزیر اعظم کے ہمراہ تھے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جی ایچ کیو آمد اور پاک فوج پر اعتماد کے اظہار پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاک فوج دفاع وطن کے لیے قوم کی توقعات پر پورا اترے گی جی ایچ کیو آمد پر وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، وزیراعظم نے یادگار شہدا پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ پڑھی ادھر  وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ جی ایچ کیو کا یہ شاندار دورہ تھا، وزیراعظم اور کابینہ کے دیگر ارکان نے دنیا کی بہترین فوج کی کمانڈ سے ملاقات کی جہاں انہیں تفصیلی بریفنگ دی گئی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ تمام اداروں کے درمیان تعاون اور رابطوں کے ذریعے پاکستان کو درپیش چیلنجز پر قابو پائیں گے۔ افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کے مطابق جی ایچ کیو پہنچنے پر وزیراعظم عمران خان کا استقبال آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کیا۔ وزیراعظم کو ملک میں جاری سکیورٹی آپریشنز، دفاع، اندرونی سلامتی اور پیشہ ورانہ امور سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ اس کے علاوہ افغانستان اور بھارت کے ساتھ  سرحدوں کی صورتحال پر بھی بات چیت ہوئی۔ بریفنگ میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ بریفنگ میں شامل شرکا نے دہشت گروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ شرکا کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گری کے خلاف جنگ میں اپنے حصے کا کردار فعال طریقے سے ادا کرے گا تاہم خطے میں پائیدار امن کے لئے دیگر ممالک کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ وزیر اعظم اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے درمیان نیشنل ایکشن پلان کے نکات پر عمل درآمد سے متعلق مشاورت ہوئی، آرمی چیف نے افغان قیادت سے ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیل سے بھی آگاہ کیا۔

 


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟