پاکستان کا امریکی صدر کے خط کا جواب دینے کا فیصلہ

پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو لکھے گئے خط کا جواب دینے کا فیصلہ کرلیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے امریکی صدر کا خط وزارت خارجہ کو دے کر جواب تیار کرنے کی ہدایت کردی۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے امریکی درخواست پر مثبت ردعمل دینے کا فیصلہ کیا  اور جوابی خط میں افغان مفاہمتی عمل میں کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی جائے گی۔ جوابی خط میں پاک-امریکا سٹریٹجک مذاکرات کی بحالی کی تجویز بھی دیئے جانے کا امکان ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق خط میں دو طرفہ تجارتی اور معاشی روابط بہتر بنانے پر بھی زور دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے ٹی وی اینکرز اور سینئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں خط لکھا ہے، جس میں پاکستان سے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے تعاون مانگا گیا ۔ دفتر خارجہ کی جانب سے بھی اس بات کی تصدیق کی گئی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور امریکا کے درمیان مل کر کام کرنے کے مواقع تلاش کرنے اور نئی شراکت داری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مسئلہ افغان کے مذاکراتی تصفیے کے لئے پاکستان سے تعاون طلب کیا۔ بعدازاں وائٹ ہائوس نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو خط بھیجے جانے کی تصدیق کردی۔ ترجمان نیشنل سیکیورٹی کونسل نے خط کی تفصیل بتائے بغیر کہا کہ پاکستان سے افغان امن عمل کے لیے مکمل حمایت کی درخواست کی گئی ہے۔ دوسری جانب پاکستان سے افغان مصالحت کے لئے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کے ساتھ تعاون پر بھی زور دیا گیا ۔ ترجمان کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے خط میں واضح کیا گیا ہے کہ افغان امن عمل میں پاکستان کی مدد پاک امریکا شراکت کے لئے بنیادی اہمیت رکھتی ہے اور پاکستان میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر طالبان کے ٹھکانے نہ بننے دے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟