21 اکتوبر 2018
تازہ ترین
پاکستان  اورآسٹریلیا کے درمیان ٹیسٹ میچ ڈرا ہوگیا

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دبئی ٹیسٹ سنسنی خیز مقابلے کے بعد ڈرا ہوگیا۔پاکستان کو آخری روز میچ جیتنے کے لیے 7 وکٹیں درکار تھیں تاہم آسٹریلوی ٹیم دفاعی انداز اپناتے ہوئے ٹیسٹ کو ڈرا کرانے میں کامیاب رہی۔پاکستان کے 462 رنز کے ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا نے آخری روز کا کھیل ختم ہونے تک 8 وکٹوں کے نقصان پر 362 رنز بنائے۔عثمان خواجہ 141 رنز کی شاندار اننگز کھیلنے کے بعد آؤٹ ہوئے، انہیں یاسر شاہ نے ایل بی ڈبلیو کیا۔

عثمان خواجہ کے بعد یاسر شاہ نے مچل اسٹارک اور پیٹر سڈل کو بھی جلد پویلین کی راہ دکھائی تاہم آسٹریلیا کے ٹم پین اور نیتھن لیون نے نویں وکٹ پر انتہائی دفاعی انداز اپنایا اور مزید کوئی نقصان نہیں ہونے دیا۔پانچویں اور آخری روز کا کھیلا شروع ہوا تو عثمان خواجہ 50 اور ٹریوس ہیڈ 34 رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے، دونوں بلے بازوں نے 132 رنز کی شراکت قائم کی۔

ٹیم کا مجموعی اسکور 219 تک پہنچا تو ٹریوس ہیڈ 72 رنز بنا کر محمد حفیظ کا شکار بن گئے جس کے بعد آنے والے نئے بلے باز لیبسچگنی بھی 13 رنز کے مہمان ثابت ہوئے۔ چھٹی وکٹ پر عثمان خواجہ اور کپتان ٹم پین کریز پر موجود ہیں، پاکستان کی جانب سے اب تک محمد عباس نے 3، محمد حفیظ اور یاسر شاہ ایک ایک وکٹ حاصل کرچکے ہیں۔

کھیل کے چوتھے روز پاکستان نے 6 وکٹوں کے نقصان پر 461 رنز بنا کر اننگز ڈکلئیر کی تو دن کے اختتام تک آسٹریلیا نے دوسری اننگز میں تین وکٹوں کے نقصان پر 136 رنز بنائے تھے۔محمد عباس نے آسٹریلیا کی دوسری اننگز کے 30 اوور میں پہلے ایرون فنچ کو ایل بی ڈبلیو کیا اور پھر شان مارش کو بھی وکٹوں کے پیچھے کیچ آؤٹ کرا دیا۔ ایرون فنچ نے 49 رنز کی اننگز کھیلی جب کہ شان مارش اپنا کھاتا بھی نہ کھول سکے۔محمد عباس نے اپنے اگلے اوور میں مچل مارش کو بھی صفر پر ایل بی ڈبلیو کر  دیا۔یکے بعد دیگرے تین وکٹیں گرنے کے بعد عثمان خواجہ اور ٹریوس ہیڈ نے محتاط انداز سے کھیلتے ہوئے چوتھے روز کا کھیل ختم ہونے تک بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے اپنی ٹیم کا اسکور آگے بڑھایا۔

قبل قومی ٹیم کے اوپننگ بلے باز امام الحق اور حارث سہیل نے چوتھے روز کھیل شروع کیا تو امام الحق 23 اور حارث سہیل صفر رنز پر موجود تھے۔دونوں بلے بازوں نے چوتھی وکٹ پر 65 رنز کی شراکت قائم کی اور ٹیم کا اسکور 110 تک پہنچا تو امام الحق 48 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، پہلی اننگز میں سنچری بنانے والے حارث سہیل 39 رنز بناسکے۔

کھانے کے وقت تک قومی ٹیم نے 5 وکٹوں کے نقصان پر 155 رنز بنائے، وقفے کے بعد اسد شفیق 181 کے مجموعے پر 41 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو کپتان نے اننگز ڈکلئیر کردی۔بابراعظم 28 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے اور اس طرح قومی ٹیم نے آسٹریلیا کو جیت کے لیے 462 رنز کا ہدف دیا۔آسٹریلیا کی جانب سے جون ہولاند نے 3، نیتھن لیون اور لیبسچگنی نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔گزشتہ روز آسٹریلوی ٹیم 202 رنز بنانے کے بعد پویلین لوٹ گئی تھی جس کے بعد قومی ٹیم نے فالو آن نہ کروانے کا فیصلہ کیا اور دوسری اننگز شروع کی تاہم دن کے اختتام پر پاکستان نے صرف 45 رنز پر 3 وکٹیں گنوائیں۔

دوسری اننگز میں پاکستان کو پہلا نقصان محمد حفیظ کی صورت میں ہوا جنہوں نے پہلی اننگز میں سنچری اسکور کی تھی تاہم وہ صرف 17 رنز بناسکے۔پاکستان کی دوسری وکٹ 38 کے مجموعی اسکور پر گری جب بلال آصف بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوگئے حالانکہ وہ نائٹ واچ مین کے طور پر آئے تھے۔ اس کے بعد اظہر علی بیٹنگ کے لیے آئے لیکن وہ بھی صرف 4 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے جس کے بعد تیسرے دن کا کھیل اختتام کو پہنچا۔ٹیسٹ کے تیسرے روز آسٹریلوی اوپنرز کے سوا کوئی بلے باز نمایاں بیٹنگ نہ کرسکا، ایرون فنچ اور عثمان خواجہ نے پہلی وکٹ پر 142 رنز کی شراکت قائم کی اور پوری ٹیم 202 رنز پر ڈھیر ہوگئی جس کے بعد قومی ٹیم کو کینگروز پر 280 رنز کی سبقت بھی حاصل ہوئی۔

پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے ایرون فنچ 62 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے اور ٹیم کا مجموعی اسکور 160 تک پہنچا تو شان مارش 7 رنز بنانے کے بعد بلال آصف کا شکار بنے۔اوپننگ بلے باز عثمان خواجہ سب سے زیادہ 85، مچل مارش 12، پیٹر سڈل 10 اور کپتان ٹم پین 7 رنز بناسکے جب کہ ٹریوس ہیڈ، مارنس لیبسچگنی اور مچل اسٹارک بغیر کوئی رنز بنائے آؤٹ ہوئے۔

پاکستان کی جانب سے کیرئیر کا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے بلال آصف نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کیا اور 6 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی جب کہ محمد عباس نے 4 وکٹیں حاصل کیں۔یاد رہے کہ پاکستان نے اپنی پہلی اننگز میں محمد حفیظ اور حارث سہیل کی سنچریوں کی بدولت 482 رنز بنائے تھے


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟