12 نومبر 2018
پاکستانی ہسپتالوں میں افغان طالبان کے علاج کا الزام مسترد

دفتر خارجہ نے افغان طالبان کو علاج کی سہولت فراہم کرنے کا الزام مسترد کر دیا۔ افغان صدر اشرف غنی نے گزشتہ روز الزام لگایا ہے کہ غزنی شہر میں جھڑپوں میں زخمی افغان طالبان کو پاکستانی ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے اشرف غنی کا الزام مسترد کرتے ہوئے کہا کہ غزنی کی جنگ میں زخمی طالبان جنگجوئوں کو پاکستانی ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات نہیں دی گئیں، افغانستان نے تاحال اپنے اس الزام کا کوئی ثبوت یا شواہد فراہم نہیں کئے۔ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ سرکاری سطح پر دونوں ممالک کے درمیان رابطے منقطع ہیں جس کے باعث ان اطلاعات کو اہمیت نہیں دی جا سکتی، افغانستان کی جانب سے اس قسم کے من گھڑت بیانات اور الزامات محض منفی پروپیگنڈا ہیں، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہوں گے۔ واضح رہے کہ 10 اگست کو افغانستان میں افغانستان کے چھٹے بڑے شہر غزنی پر ایک اور بہت حملہ کیا تھا۔ نیٹو، افغان افواج اور طالبان کے درمیان یہ لڑائی ایک ہفتے تک جاری رہی جس میں 200 سے زیادہ اتحادی فوجی اور اتنی ہی تعداد میں طالبان جنگجو ہلاک ہوئے، جبکہ درجنوں عام شہری بھی اس لڑائی کی زد میں آکر جاں بحق ہوئے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟