26 ستمبر 2018
تازہ ترین
 پانی کی بوتل آگ بھی لگا سکتی ہے!

آپ نے اخبارات میں اس نوع کی خبریں ضرور پڑھی ہوں گی کہ کھڑی ہوئی کار میں پُراسرار طور پر آگ بھڑک اٹھنے سے گاڑی جل کر خاکستر ہوگئی۔ اس طرح کے کئی حادثات میں گاڑی کے اندر موجود کم سن بچوں کی ہلاکتیں بھی ہوچکی ہیں۔گاڑی میں آتش زدگی کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ اس کا سبب شارٹ سرکٹ بھی ہوسکتا ہے۔ مگر آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ سیٹ پر پڑی ہوئی یا ڈیش بورڈ پر رکھی ہوئی پانی کی بوتل بھی آگ لگنے کی وجہ بن سکتی ہے !عام طور پر ہم اپنی کار میں پانی سے بھری ہوئی بوتل رکھتے ہیں۔ یہ بوتل پینے کے پانی کی بھی ہوسکتی ہے یا پھر اس میں ریڈی ایٹر میں ڈالا جانے والا پانی بھی ہوسکتا ہے۔ سیٹ پر پڑی ہوئی یہ بوتل آتش زدگی کا باعث بن کر لاکھوں روپے مالیت کی کار کو جلے ہوئے آہنی ڈھانچے میں بدل سکتی ہے۔ ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیونکر ممکن ہے؟ لاس اینجلس میں واقع گیٹی کنزرویشن انسٹیٹیوٹ کی میٹیریلز سائنٹسٹ اوڈیلے میڈن کہتی ہیں کہ پلاسٹک سے بنی یہ بوتل جس میں شفاف پانی بھرا ہوتا ہے، کار کے شیشے سے گزر کر آتی ہوئی دھوپ کے لیے عدسے کا کام کرتی ہے، جس میں سے گزر کر شمسی شعاعیں ایک نقطے پر مرتکز ہوجاتی ہیں۔ روشنی ان گنت فوٹانوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ فوٹان سب اٹامک ذرات ہوتے ہیں اور خط مستقیم میں سفر کرتے ہیں۔ نظر کی عینک اور خردبین کے عدسے فوٹانوں کو ایک نقطے پر مرتکز کردیتے ہیں۔اسی طرح پلاسٹک کی بوتل میں بھرا ہوا پانی عمل کرتا ہے۔ اس میں سے گزر کر دھوپ ایک نکتے پر مرتکز ہوتی ہے، یوں دھوپ کی تمام حرارتی توانائی بھی اسی نقطے پر جمع ہوجاتی ہے۔ اب اگر پانی کی بوتل سیٹ پر پڑی ہوئی ہے تو اس میں سے گزرتی ہوئی دھوپ سیٹ کور پر کسی ایک نقطے پر مرتکز ہوجاتی ہے۔ حرارتی توانائی کی وجہ سے اس نقطے یعنی سیٹ کور کے اس حصے پر درجۂ حرارت بڑھتا چلاجاتا ہے۔ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ سیٹ کور پگھلنے لگتا ہے اور پھر اس میں آ گ بھڑک اٹھتی ہے۔ لہٰذا کار کو آتش زدگی سے بچانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اسے سائے میں کھڑا کیا جائے، اگر دھوپ میں کھڑی کرنا مجبوری ہو تو پھر یہ یقین کرلیں کہ اس کے اندر پانی کی بوتل سیٹ کے اوپر، ڈیش بورڈ پر یا کسی ایسی جگہ پر نہیں ہے کہ جہاں اس پر براہ راست دھوپ پڑنے کا امکان ہو۔ ایک اور بات دھیان میں رہے کہ کم سن بچوں کو کبھی گاڑی کے اندر بند کرکے نہ جائیں۔ بعض اوقات والدین گاڑی پارک کرکے چھوٹے بچوں کو اندر لاک کرکے چلے جاتے ہیں کہ بس ابھی سامنے کی دکان سے سامان لے کر آئے۔ ان کا یہ اقدام بچوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ امریکا میں ہر سال اس طرح کے بیس سے تیس واقعات پیش آتے ہیں کہ ماں یا باپ چند منٹ کے لیے بچے کو گاڑی میں لاک کرکے گئے مگر انھیں واپسی میں تاخیر ہوگئی اور بچہ دم گھٹ جانے سے مر گیا۔ دراصل دھوپ میں کھڑی ہوئی گاڑی کے اندر درجۂ حرارت تیزی سے بڑھتا ہے۔ چھوٹے بچوں میں قوت مزاحمت کم ہوتی ہے اس لیے وہ جلد زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟