25 ستمبر 2018
تازہ ترین
ٹیکس ایمنسٹی سکیم پر عوامی رائے انتہائی مثبت

 ٹیکس ایمنسٹی کی دونوں سکیموں پر عوامی ردعمل انتہائی مثبت رہا ہے،اب تک 55 ہزار 225 ڈکلیریشن دائر کی گئی ہیں جس میں غیرملکی اثاثہ جات کا حجم 577 ارب روپے جبکہ داخلی اثاثوں کا حجم 1192 ارب روپے ہے۔ اثاثے ظاہر کرنے والوں نے تقریباً 97 ارب روپے کی ادائیگی کی ہے جن میں سے 36 ارب روپے غیرملکی اثاثہ جات اور 61 ارب روپے داخلی اثاثہ جات کی مد میں حاصل کئے گئے۔ اس کے علاوہ 40 ملین ڈالر کی رقوم کی واپسی ہوئی۔  وزارت خزانہ   کے مطابق حکومت پاکستان نے غیرملکی اثاثہ جات  آرڈیننس 2018 اور داخلی اثاثوں کی رضاکارانہ ڈکلیریشن آرڈیننس 2018 کا اعلان کیا اور آئین کے تحت دونوں آرڈیننس پارلیمنٹ کے سامنے پیش کئے گئے۔پارلیمان کی منظوری کے بعد فنانس ایکٹ 2018 کے تحت دونوں آرڈیننس اندرونی اثاثوں کے رضاکارانہ اعلان ایکٹ 2018 کے تحت اور غیرملکی اثاثوں کیلئے غیرملکی اثاثہ جات  ایکٹ 2018 بن گئے۔ 30 جون 2018 کو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے دونوں ایکٹ میں مزید ترامیم کی گئیں۔  ایمنسٹی سکیم کے تحت اثاثوں کی ڈکلیریشن کیلئے آخری  تاریخ 30 جون 2018 مقرر کی گئی تاہم تجارتی تنظیموں اور اداروں، پیشہ وارانہ ایسوسی ایشن اور عام عوام کی نمائندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اثاثوں کی ڈکلیریشن کی تاریخ 31 جولائی 2018 تک بڑھا دی گئی۔ 30 جون 2018 کو جاری صدارتی آرڈیننس میں ایمنسٹی ایکٹس میں ترامیم کی گئیں تاکہ تاریخ میں توسیع کی جا سکے اور اس میں ایکسچینج ریٹ سمیت دیگر شبہات کی وضاحت شامل کی جا سکے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق دونوں سکیموں پر عوامی ردعمل انتہائی مثبت رہا، اب تک اس کے تحت 55 ہزار 225 ڈکلیریشن دائر کی گئی ہیں جس میں غیرملکی اثاثہ جات کا حجم 577 ارب روپے ہے جبکہ داخلی اثاثوں کا حجم 1192 ارب روپے ہے۔ اثاثے ظاہر کرنے والوں نے تقریباً 97 ارب روپے کی ادائیگی کی ہے جن میں سے 36 ارب روپے غیرملکی اثاثہ جات اور 61 ارب روپے داخلی اثاثہ جات کی مد میں حاصل کئے گئے۔ اس کے علاوہ 40 ملین ڈالر کی رقوم کی واپسی ہوئی۔ ایمنسٹی سکیموں کیلئے اس طرح کے ردعمل کی مثال نہیں ملتی۔   غیر ملکی اثاثوں کیلئے ایمنسٹی سکیم سیال  اور غیر منقولہ اثاثوں جیسے بینک اکائونٹس، حصص اور مارگیج پراپرٹیز پر لاگو ہوتا ہے۔ اس کے لئے شرح 2 سے لیکر 5 فیصد تک ہے اور اس کا انحصار اثاثوں کی نوعیت پر ہے۔ پاکستان واپس آنے والے سیال اثاثوں پر خصوصی ٹیکس کی شرح 2 فیصد ہے۔ ملکی اثاثوں کیلئے ایمنسٹی سکیم کا دائرہ کار آمدنی اور ہر قسم کے اثاثہ جات تک پھیلا ہوا ہے جہاں ٹیکس کی شرح 2 سے لیکر 5 فیصد ہے۔ اثاثے ظاہر کرنے والے شہریوں کے تحفظ اور انہیں ہراساں ہونے سے بچانے کیلئے دونوں ایکٹ میں اقدامات کئے گئے ہیں تاکہ ایسے افراد کے بارے میں معلومات صیغہ راز میں رہے۔ علاوہ ازیں یہ معلومات اثاثے ظاہر کرنے والے افراد کے خلاف کسی بھی کیس میں استعمال میں نہں لائے جاسکتے۔  وزیر خزانہ دونوں ایمنسٹی سکیموں سے متعلق آپریشن کا خود جائزہ لے رہی ہے  اور مسلسل ایف بی آر اور سٹیٹ بنک آف پاکستان کو ہدایات جاری کئے جارہے ہیں   تاکہ ادائیگیوں کا طریقہ کار بہتر بنایا جاسکے اور اثاثے ظاہر کرنے والے افراد کو موثر سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ وزیر خزانہ کی ہدایت پر ایف بی آر نے ہیلپ لائن قائم کی  ہے جو 24 گھنٹے قابل استعمال ہے۔ اس مقصد کے لئے ٹیلی فون لائن اور ای میل بنائی گئی ہے تاکہ سوالات کا بروقت جواب دیا جاسکے۔ سوالات ٴ آن لائن یوزر گائیڈ اور متعلقہ دستاویزات ایف بی آر کی ویب سائٹ www.fbr.gov.pkپر دی گئی ہےں۔ اکائونٹنگ ماہرین اور ٹیکس پٹیشنرز کے اداروں سمیت نجی شعبے سے رابطہ کاری بڑھائی گئی ہےٴ اسی طرح کے انتظامات سٹیٹ بنک آف پاکستان میں بھی کئے گئے ہیں۔ آن لائن یوزر گائیڈ کے ذریعے رجسٹریشن کے لئے مرحلہ وار معلومات فراہم کی گئی ہیں جس میں ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے بارے میں معلوماتٴ طریقہ کار ٴ ٹیکس کی ادائیگی اور اثاثوں کی ڈیکلیریشن کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ ایمنسٹی سکیم سے متعلق سوالات کے جواب دینے کے لئے شعبے کے ماہر افسران کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آئی ٹی کی ایک مکمل فعال ٹیم بھی موجود ہے جو آن لائن آئی ٹی نظام کا باقاعدگی سے جائزہ لیتی ہے۔ غیر ملکی اثاثوں پر ٹیکس کی ادائیگی  بارے  سٹیٹ بنک آف پاکستان نے ایک طریقہ کار وضع کیا ہے جہاں وائر ٹرانسفر کے ذریعے امریکی ڈالروں میں ٹیکس جمع کا جاتا ہے۔ حکومت پاکستان نے گورنمنٹ آف پاکستان یو ایس ڈالر ڈومینیٹڈ ایمنسٹی رولز 2018 جاری کیا ہے جس میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کو بانڈز کے اجرائ کی اجازت دی گئی ہے جس کی میچورٹی کی مدت پانچ برس ہوگیٴ اس پر سالانہ تین فیصد منافع دیا جائے گا۔ قواعد و ضوابط کے مطابق پاکستان کے شہری ڈیکلیئر ترسیلات زر کے علاوہ ایسے بانڈ یا پاکستان میں فارن کرنسی اکائونٹ میں کیش کے ذریعے سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ بیان کے مطابق دو سے پانچ فیصد کی شرح کی حامل ایمنسٹی سکیم غیر ظاہر شدہ اثاثوں اور آمدنی کے لئے پرکشش ترغیب ہے۔ پاکستان او ای ایس ڈی کے کثیر الجہتی کنونشن کا دستخط کنندہ ہے۔ اس کنونشن کے تحت ستمبر 2018 سے آف شور مالیاتی اکائونس رکھنے والے پاکستانی شہریوں کے بارے میں دستخط کرنے والے ممالک کے ساتھ معلومات کا تبادلہ ہو سکے گا۔ بیان کے مطابق اقتصادی اصلاحات کے تحفظ ایکٹ 1992ئ میں بھی ضروری ترامیم کی گئی ہیں تاکہ فارن ایکسچینج کی نقل و حمل کو باضابطہ بنایا جاسکے اور اسے انکم ٹیکس آرڈیننس 2011کے مطابق بنایا جاسکے۔ علاوہ ازیں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں بھی ضروری ترامیم کی گئی ہیں جس کے تحت ایف بی آر دس ملین سے زیادہ غیر ملکی ترسیلات کے ذرائع کے بارے میں پانچ برسوں تک معلومات  حاصل  کر سکے گا۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟