25 ستمبر 2018
تازہ ترین
 ٹیرف رکاوٹوں پر تحفطات، پی بی سی کا ترکی کیساتھ آزاد تجارتی معاہدہ متوازن بنانے پر زور

پاکستانی مصنوعات پر عائد بھاری درآمدی ڈیوٹیوں کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے معاہدے کو متوازن بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پاکستان بزنس کونسل کے تحقیقی جائزے کے مطابق پاکستان اور ترکی کی باہمی تجارت کا موجودہ حجم 440ملین ڈالر تک محدود ہے۔ سال 2015کے دوران پاکستان نے ترکی کو 235ملین ڈالر کی مصنوعات برآمد کیں جبکہ اسی عرصے میں ترکی سے 205ملین ڈالر کی مصنوعات درآمد کی گئیں۔پاکستان اور ترکی کے دیرینہ تعلقات کے پیش نظر دونوں ملکوں میں باہمی تجارت کا حجم 17.8ارب ڈالر تک بڑھائے جانے کے امکانات موجود ہیں جس میں ترکی کے لیے پاکستان سے کہیں زیادہ امکانات پوشیدہ ہیں۔ ترکی کی پاکستان کو ایکسپورٹ 12.8ارب ڈالر جبکہ پاکستان سے ترکی کو برآمدات 5ارب ڈالر تک بڑھائی جاسکتی ہے۔ پاک ترکی باہمی تجارت کا حجم 2011میں 916ملین ڈالر تھا جس میں پاکستانی برآمدات کی مالیت 756ملین ڈالر جبکہ ترک مصنوعات کی درآمدی مالیت 160ملین ڈالر تھی۔آزاد تجارت کے معاہدے کے باوجود پاکستان کی ترکی کو برآمدات 2011کی سطح تک نہیں پہنچ سکی جبکہ ترکی کی پاکستان کو برآمدات میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان بزنس کونسل نے پاک ترک آزاد تجارت کے معاہدے کے دوسرے راؤنڈ کے لیے دی جانے والی سفارشات میں زور دیا ہے کہ ترکی کے ساتھ آزاد تجارت کا معاہدہ اسی طرز پر کیا جائے جس طرز پر ترکی نے اردن اور مصر کے ساتھ آزاد تجارت کا معاہدہ کیا ہے، اس کے برعکس پاکستان کے ساتھ کیا جانے والا آزاد تجارت کا معاہدہ ترکی کے ساؤتھ کوریا، ملائیشیا اور سنگاپور کے ساتھ کیے گئے معاہدوں جیسا ہے جس کی وجہ سے پاکستانی کمپنیوں کے لیے ترکی کے ساتھ آزاد تجارت کا فائدہ اٹھانے کے امکانات محدود ہیں۔اگرچہ پاکستان کی 10سرفہرست پوٹینشل مصنوعات پر ترکی کی درآمدی ڈیوٹی 9.6فیصد اور اس سے کم ہے تاہم ترکی کی جانب سے مصر اور اردن کی ان ہی مصنوعات پر عائد کی جانے والی ڈیوٹی کی شرح پاکستان سے بھی کم ہے۔ پی بی سی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ترکی کے ساتھ تجارتی معاہدے کی تجدید کے دوران بات چیت کے عمل میں ترکی کی جانب سے تجارت کے دفاع کے لیے استعمالکی جانے والی اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی اور حفاظتی اقدامات کو کم کرایا جائے۔پاکستان کی اہم مصنوعات مین میڈ فائبر، سنتھیٹک یا مصنوعی اسٹیبپل فائبر یارن، اسپلٹ ایئر کنڈیشنرز پر عائد کی جانے والی اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی ختم کرائی جائے۔ اسی طرح کاٹن فیبرک، پولیتھلین، ٹیری پھیتلیٹ پر عائد گلوبل سیف گارڈ اقدامات کو نرم کرانے کی ضرورت ہے۔ سفارشات میں پاکستانی وفاقی وزارت تجارت پر زور دیا گیا ہے کہ ترکی کے ساتھ تجارت میں حائل نان ٹیرف رکاوٹوں کی نشاندہی کیلیے پاکستانی بزنس کمیونٹی کو ایف ٹی اے پر نظرثانی سے متعلق سرگرمیوں میں نمائندگی دی جائے۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟