20 ستمبر 2018
تازہ ترین
ٹرمپ کا واشنگٹن میں پی ایل او  کا دفتر بند کرنیکا فیصلہ

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن  پی ایل او  کے دفتر کو بند کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے جس سے فلسطینی حکام کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فلسطینی اتھارٹی  نے امریکی سربراہی میں اسرائیل سے مذاکراتی عمل میں حصہ بننے سے معذرت کرلی تھی۔ فلسطینی حکومت کے اسی  فیصلے سے نالاں ہوکر امریکی صدر نے واشنگٹن میں قائم پی ایل او کے دفتر کو بند کرنے کا حکم دیا۔ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل صائب اریکات نے میڈیا کو بتایا کہ امریکی حکام نے  واشنگٹن میں پی ایل او کے دفتر کو بند کرنے سے متعلق اپنے فیصلے سے ہمیں تحریری طور پر آگاہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفتر کی بندش امریکا کی انتقامی کارروائی ہے ۔ فلسطین کو ٹرمپ کے دورِ صدارت میں امریکی تاریخ کے تلخ ترین فیصلوں کا سامنا ہے۔ یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کر کے تل ابیب سے سفارت خانے کی منتقلی اور فلسطین کے لیے تمام قسم کی امداد بند کرنے کے بعد اب واشنگٹن میں پی ایل او کے دفتر کو تالا لگانا تیسرا بڑا تاریک فیصلہ ہے۔ واضح رہے کہ امریکا کی جانب سے فلسطینیوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کے سلسلے میں تیزی اُس وقت دیکھنے میں آئی جب رواں برس مئی میں فلسطین نے اسرائیلی مظالم کے خلاف عالمی عدالت برائے انصاف سے رجوع کیا اور عالمی عدالت نے اسرائیلی مظالم کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔


عوامی سروے

سوال: کیا پی ٹی آئی انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کر پائے گی؟